(30 نومبر 2025): آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت انتہا پسند بھارت میں مسلمانوں کا منظم استحصال جاری ہے، ایرانی میڈیا نے مسلمان کے خلاف تعصب، نفرت اور انتہا پسندانہ کارروائیاں بے نقاب کر دیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے مسلمانوں میں امتیازی سلوک کے بڑھتے ہوئے واقعات نے نئی تشویشناک لہر پیدا کر دی ہے، نئی دہلی میں مسلمانوں کو جان بوجھ کر اور منظم طور پر تعصب اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مہاراشٹرا میں 3 مسلم طلبہ کو کلاس روم میں نماز پڑھنے پر مورتی کے سامنے جھکنے اور بیٹھک لگانے پر مجبور کیا گیا، تاج محل کے قریب 64 سالہ مسلم ٹیکسی ڈرائیور کو 2 نوجوانوں نے جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ‘مودی کا بھارت مسلمانوں کیلئےخطرناک خطہ بن چکا ہے’
مزید کہا گیا کہ بھارت میں دائیں بازو کے گروہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریریں اور تشدد کی دھمکیاں دیتے ہیں مگر حکام اور میڈیا خاموش رہتا ہے، بریلی شہر میں ایک مسلمان کی دو منزلہ مارکیٹ کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیا گیا۔
پریس ٹی وی کے مطابق بھارت میں خطرناک روایت بن گئی ہے کہ مسلمانوں کے حق میں بولنے والوں کی جائیدادیں گرا دی جاتی ہیں، بھارت میں احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو بغیر قانونی عمل کے گرفتار کیا جا رہا ہے۔
’سوشل میڈیا پر دائیں بازو کے گروہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں نے فرقہ وارانہ کشیدگی اور اسلاموفوبیا میں اضافہ کیا ہے۔‘
بھارت میں نفرت، انتہا پسندی، مذہبی تفریق اور اقلیت دشمنی سفاک مودی کی معتصبانہ سوچ کا عکاس ہے۔


