The news is by your side.

’رام جنم بھومی‘ پر پابندی لگائی جائے، بھارتی مسلمانوں کا مطالبہ

ممبئی: بھارتی مسلمانوں نے ایودھیا اور بابری مسجد کی شہادت سے متعلق بنائی جانے والی متنازع بالی ووڈ فلم کی مخالفت کرتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کردیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق سانوج مشرا کی ہدایت کاری میں بنائی جانے والی فلم ’رام جنم بھومی‘ کی مسلمانوں نے مخالفت کرتے ہوئے سینسر بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ فلم کی ریلیز کو  فوری طور پر روکا جائے۔

رپورٹ کے مطابق اس فلم میں ایودھیا فسادات اور بابری مسجد کی شہادت کا قصور وار مسلمانوں کو ٹھہرایا گیا ہے۔

مسلمان تنظیم کے چیئرمین سید وسیم رضوی نے سینسر بورڈ کو خط لکھا کہ وہ فلم کی ریلیز کے لیے کلیئرنس سرٹیفیکٹ جاری نہ کرے کیونکہ اس کی وجہ سے حالات کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: بابری مسجد کی شہادت میں ملوث ہندو انتہا پسند شہری نے اسلام قبول کرلیا

اُن کا کہنا تھا کہ ’فلم کے ٹریلر میں 30 اکتوبر 1990 کو ایودھیا میں ہونے والے پرتشدد واقعات کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا گیا ہے جبکہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ فسادات کے دوران انتہاء پسندوں نے مسلمانوں کی املاک اور بابری مسجد کو شہید کیا تھا‘۔

مہارشٹرا کی مسلم عوامی کمیٹی (ایم ایم سی اے) نے ٹریلر جاری ہونے پر پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلم کی کہانی جھوٹ پر مبنی ہے اور ہدایت کار نے مسلمانوں کو انتہا پسند دکھانے کی کوشش کی جبکہ فسادات سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں پہلے ہی زیر سماعت ہے‘ْ

کمیٹی کے سربراہ الیاس کرمانی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سینسر بورڈ کو ایک یادداشت پیش کردی جس میں کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ فلم میں جان بوجھ کر متنازع اسلامی معاملات کو بھی دکھایا گیا، اگر اس طرح کی فلمیں ریلیز ہوئیں تو ملک میں ایک بار پھر مذہبی فسادات شروع ہونے کا خدشہ بھی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: بابری مسجد کوشہید کرنے والے سکھ کا قبول اسلام، 90 مساجد بنا ڈالیں

اُن کا کہنا تھا کہ ’سینسر بورڈ اور دیگر متعلقہ ادارے فلم کی اسکریننگ کریں اور  ہدایت کار کو کلیئرنس سرٹیفیکٹ جاری نہ کریں وگرنہ پورے ملک میں حالات کشیدہ ہوجائیں گے’۔

مسلمانوں کے حقوق کی تنظیم نے یادداشت کی ایک کاپی وزیراعلیٰ مہارشٹرا دیویندرا کو بھی ارسال کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں