The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت، مشعال ملک نے روسی صدر سے مدد مانگ لی

اسلام آباد : حریت رہنماء یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت روکنے اور حریت قائدین کی فوری رہائی ممکن بنانے کیلئے روسی صدر سے مدد مانگ لی جبکہ ہندوستان نے مشعال ملک کو ویزا دینے سے انکار کردیا ہے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران مشعال ملک کا کہنا تھا کہ روسی صدر کو ارسال کئے گئے خط میں ولادی میر پیوٹن کو آگاہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کر رہا ہے، ایک سو تین روز سے جاری کرفیو کے دوران کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، کشمیریوں کو صحت جیسی بنیادی سہولیات فراہمی معطل کرنے سمیت انہیں ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے جبکہ بچوں اور عورتوں پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔


مزید پڑھیں : بھارت نے جنت نظیروادی مقبوضہ کشمیر کو کشمیریوں کیلئے جہنم بنا دیا ہے، مشال ملک


انکا کہنا تھا کہ خط میں کہا گیا ہے کہ خطے کا اہم ملک اور سلامتی کونسل کا اہم رکن ہونے کے ناطے روس پاک بھارت مذاکرات کی بحالی، کرفیو کے خاتمے سمیت حریت قائدین کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے معطل کی گئی انٹرنیٹ سروسز اور ذرائع ابلاغ کی بحالی سمیت تجارتی پابندیاں اٹھانے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے۔

مشعال ملک کا کہنا تھا کہ تاشقند اور شملہ معاہدے میں روس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل تھا جبکہ روس کی جانب سے فلسطینیوں کی تحریک آزادی کو سپورٹ کرنے کے اعلان کے بعد کشمیریوں کو بھی سپورٹ فراہم کرے۔


مزید پڑھیں : میرے شوہر کی زندگی کوسخت خطرہ ہے،مشعال ملک


انھوں نے مزید کہا کہ یاسین ملک کی صحت انتہائی تشویشناک ہے، اسیری کے دوران یاسین ملک کی صحت مزید خراب ہوچکی ہے اور بھارت انہیں اور انکی بیٹی کو مقبوضہ کشمیر جانے کیلئے گذشتہ تین سال سے ویزہ فراہم نہیں کر رہا، مقبوضہ کشمیر اور کشمیریوں کا بھرپور ساتھ دینے کے حوالے سے عزیز دوست چین کی محبت اور تعاون ناقابل فراموش ہے ۔

مشعال ملک نے کہا کہ وہ جلد سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ممبران کو بھی خط ارسال کریں گی۔

 

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں