The news is by your side.

Advertisement

بھارت: اپوزیشن جماعتوں کا بڑا اقدام، چیف جسٹس کے خلاف مواخذے کی پٹیشن دائر

نئی دہلی: بھارتی پارلیمنٹ کے اپوزیشن جماعتوں نے بھارت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف مواخذے کی پٹیشن دائر کر دی۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں بھاتی سپریم کورٹ کے چار ججوں نے کیس کے مقدمات سماعت کے لیے دینے کے معاملے میں چیف جسٹس کے رویوں پر سوالات اٹھائے تھے جس کے بعد بھارتی پارلیمنٹ کی کانگریس سمیت سات اپوزیشن جماعتوں نے مواخذے کی پٹیشن نائب صدر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائڈو کے پاس جمع کرادی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کے ججز انکوائری ایکٹ 1968ء کے تحت کسی بھی جج کے خلاف شکایت سامنے آنے پر پارلیمنٹ کے 100 یا راجیہ سبھا کے 50 ارکان پٹیشن پیش کر سکتے ہیں جس کے بعد پرزائیڈنگ افسر تین رکنی کمیٹی تشکیل دیتا ہے جس میں دو ججز ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک جج سپریم کورٹ سے تعلق رکھتا ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ میں ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت کے خلاف قرارداد

پٹیشن سے متعلق اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات اور چیف جسٹس کے رویوں پر اٹھائے جانے سوالات کی انکوائری کو ممکن بنا سکتی ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ 3لاکھ چوہوں کا قتل،سابق وزیر نے تحقیقات کا مطالبہ

یاد رہے کہ رواں سال جنوری کو سپریم کورٹ کے چار ججوں جن میں جستی چیلمیشور، رنجن گوگوئی، مدن بی لوکوُر اور کوریان جوزف شامل ہیں نے چیف جسٹس کے رویوں پر سولات اٹھائے تھے اور حیران کن انداز سے عوامی سطح پر اپنی شکایات کا اظہار بھی کیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں