The news is by your side.

Advertisement

بھارتی پولیس مسلم دشمنی پر اتر آئی : زخمی ٹرک ڈرائیور کیخلاف ہی مقدمہ درج

کرناٹک : بھارت میں مسلم دشمنی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، مویشی لے جانے والے شخص کو ہندوتوا کے غنڈوں نے مار مار کر نہ صرف لہولہان کردیا بلکہ مدد مانگنے پر پولیس نے بھی اسی کیخلاف گئوکشی کا مقدمہ درج کرلیا۔

بھارتی ریاست کرناٹک میں مسلم دشمنی کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، مسلمان ڈرائیور عابد علی مویشیوں کو زراعت کے لیے لے جا رہا تھا کہ راستے میں غندہ عناصر نے اس پر بہیمانہ تشدد کیا، ہڈیاں ٹوٹنے کے باعث عابد علی اسپتال میں زیر علاج ہے۔

مسلمان ڈرائیور عابد علی نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ مویشیوں کو زراعت کے لیے لے جا رہا تھا، میرے پاس قانونی طور پر دکھانے کے لیے تمام دستاویز ات بھی موجود تھے،ٹرانسپورٹیشن سمیت کچھ بھی غیر قانونی نہیں تھا۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق عابد علی نامی شخص مبینہ طور پر اپنے ٹرک میں12 سے 15مویشیوں کو رانی بینّور سے منگلورو لے جا رہا تھا کہ راستے میں  جس کی نہ صرف ہندوتوا غنڈوں نے پٹائی کی بلکہ اس کے پاس موجود 22ہزار روپے نقد اور موبائل فون بھی چھین لیا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ جب مسلم ڈرائیور نے مدد کے لیے پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کی تو الٹا متاثرہ شخص کے خلاف ہی مبینہ گئوکشی کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ہفتے قبل کرناٹک کا ہے جہاں گئوکشی پر پابندی عائد کیے جانے والے نئے آرڈیننس کے تحت پہلا معاملہ درج کیا گیا ہے۔

بھارتی روزنامہ دی ہندو میں اس واقعہ سے متعلق سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جب اس واقعہ کی اطلاع عابد علی نے مقامی لوگوں کی مدد سے شرنگیری پولیس کو دی تو وہ موقع پر پہنچی اور حملہ آواروں کے خلاف شکایت درج کرنے کے ساتھ ساتھ عابد علی کے خلاف گئوکشی معاملہ کو  لے کر بھی مقدمہ درج کرلیا۔

بھارتی اخبار کے مطابق  اس حوالے سے  جب شرنگیری پولیس سے رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش بھی جاری ہے، تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی کسی طرح کی کارروائی کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں