The news is by your side.

Advertisement

بھارتی ریاست اتر پردیش کے گاؤں کی خواتین کے موبائل استعمال پر پابندی عائد

اتر پردیش : بھارتی ریاست اتر پردیش کے گاؤں مادورا کی خواتین کے موبائل استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی۔

بھارت کے ایک گاؤں میں مردوں سے بات چیت سے خواتین کو روکنے کیلئے ان کے عوامی مقامات پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ اس کی خلاف ورزی کرنے والی خاتون کو بھاری جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

گاؤں کی پنچایت کے ارکان نے پابندی لگاتے ہوئے کہا کہ اپنے گھروں سے باہر موبائل فون کا استعمال کرنے والی خواتین کو 21000 روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

پنچایت نے فیصلہ کیا کہ مسلمان گائے کو ذبخ کرنے کیخلاف اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کی مہم کا ساتھ دیں گے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ گائے کی قربانی یا گائے چوری میں ملوث افراد کو 2لاکھ اور شراب فروشی میں شامل افراد کو بھی بھاری جرمانے کی سزا دی جائے گی۔

اس قانون کا اعلان بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں مادورا میں کیا گیا ہے، جہاں مسلمان اکثریت میں آباد ہیں۔

مقامی پولیس چیف ارون کمار سنگھ کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ گاؤں میں خواتین کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے، یہ پابندی گاؤں کی غیر سرکاری کونسل نے عائد کی ہے اور یہ اقدام غیر آئینی ہے، جس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


مزید پڑھیں : لڑکیوں کے موبائل فون استعمال کرنے اور جینز ٹی شرٹ پر پابندی عائد


خیال رہے کہ بھارت کے دیہاتوں میں غیر سرکاری کونسل بیشتر گاؤں کے مرد بزرگوں پر مشتمل ہوتی ہے، غیر قانونی ہونے کے باوجود اسے بھارت کے دور دراز علاقوں میں بہت زیادہ اثر رسوخ حاصل ہے۔

یاد رہے گذشتہ سال بھارتی ریاست فتح گڑھی کے گاؤں خیر تحصیل میں پنجائیت نے فیصلہ کرتے ہوئے لڑکیوں کے موبائل فون کے استعمال، جینز اور ٹی شرٹ پہننے اور پر مکمل پابندی عائد کردی تھی جبکہ گاؤں میں شراب نوشی اور جوئے کے اڈے بھی بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں