The news is by your side.

Advertisement

1857: جب کتب خانے برباد ہوئے!

انقلابات و حوادثِ زمانہ کے ہاتھوں علم و فضل اور تہذیب و تمدن کے مراکز بھی ایسے برباد ہوئے کہ زمانہ اس پر روتا ہے۔ سچ بھی یہی ہے کہ صدیاں گریہ کریں تب بھی تلافی کہاں ممکن۔ ہم کتب خانوں کی بات کررہے ہیں جن کا دامن دنیا بھر کے انمول موتیوں سے بھرا ہوا تھا۔ تشنگانِ علم آتے اور سیراب ہوتے۔

تاریخ کی ورق گردانی کریں تو معلوم ہوگا کہ جس طرح دنیا بھر میں اور قرطبہ، بغداد، قاہرہ و دیگر سلطنتوں کے زوال کے ساتھ ہی بادشاہوں اور صاحبانِ علم کی خصوصی سرپرستی اور مالی معاونت سے اذہان و قلوب کو منور کرنے والے کتب خانے ویران ہوگئے، اسی طرح لوٹ مار کے بعد ان میں اکثر برباد کر دیے گئے۔ توڑ پھوڑ کے ساتھ کتب خانوں کو جلا دیا گیا اور سپاہِ مخالف نے زیرِ قبضہ علاقوں کو روشنی سے محروم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ کچھ کمی نہ کی۔

مغل اور دیگر مسلم ریاستوں کے والی و امرا کی سرپرستی میں کئی کتب خانے ہندوستان میں بھی موجود تھے جو کسی جنگ کے دوران ہی برباد نہیں ہوئے بلکہ لوٹ مار کی بھی نذر ہوئے۔ یہاں ایسے چند واقعات کا تذکرہ اہلِ علم و فن کو رنجیدہ کر دے گا۔

1739 میں نادر شاہ کے حملے میں دہلی کے کئی کتب خانے برباد ہوئے۔ افواج نے فقط مال و دولت ہی نہیں سمیٹا بلکہ کتب خانوں سے قدیم نسخے اور نوادر بھی لوٹ کر لے گئیں۔

1757 میں ابدالی نے ہندوستان پر لشکر کشی کی تو دہلی کا علمی خزانہ برباد ہوا۔ کہتے ہیں غلام قادر روہیلے نے قرآنی نسخے اور نادر کتابیں تک شاہی کتب خانے سے سمیٹ لی تھیں۔

یہ تو اس زمانے کے بادشاہوں کی لڑائیوں اور جنگوں کے دوران ہونے والی لوٹ مار تھی، مگر 1857 میں یعنی ہندوستان کی جنگ آزادی کے دوران بھی کئی نایاب قلمی نسخے، نوادر اور اہم موضوعات پر کتب برباد ہو گئیں اور عوام نے کتب خانوں میں لوٹ مار کی۔
کتب خانوں کی بربادی اور لوٹ مار کا نقشہ شمس العلما مولوی ذکا اللہ نے یوں کھینچا ہے۔

‘‘کتب خانے لٹنے شروع ہوئے۔ لٹیرے عربی، فارسی اردو وغیرہ کی کتابوں کے گٹھر باندھ کر کتب فروشوں، مولویوں اور طالب علموں کے پاس بیچنے لے گئے۔ بعض طلبا بھی جو کتابوں کے شائق تھے، اچھی اچھی کتابیں لے گئے۔ لوگوں نے کتابوں کے اچھے اچھے پٹے اتار لیے کہ جلد سازوں کے ہاتھ بیچیں گے اور باقی کو پھاڑ کر پھینک دیا۔’’

اس وقت مغلوں کے علاوہ سلطان ٹیپو وغیرہ کے کتب خانوں کی بہت سی کتب انگلینڈ بھیج دی گئیں۔ یہ کتابیں وہاں کے کتب خانوں میں سجائی گئیں۔

علامہ اقبال انہی کتابوں کو جب یورپ میں دیکھا تو کہا۔

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارہ

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں