The news is by your side.

Advertisement

پاپڑ کے بعد بھارتیوں کا ساڑھی سے کرونا وائرس کا علاج کرنے کا دعویٰ

نئی دہلی: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک خاص قسم کی ساڑھی متعارف کی گئی ہے جس کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ساڑھی کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے مفید ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے بھارت میں پاپڑ کے بعد ایک خاص قسم کی ساڑھی متعارف کرائی گئی ہے جس کے  حوالے سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ  خصوصی ساڑھی خواتین کی  قوت مدافعت  میں اضافے اورکرونا وائرس کے حملے سے محفوظ رکھے گی۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش میں ہربل ساڑھیاں اور امیونٹی بوسٹر ساڑھیاں بڑے پیمانے پر تیار کی جا رہی ہیں، جسے آیور وستر کا نام دیا گیا ہے۔

ان ساڑھیوں کو بنانے کے لیے کئی طرح کے گرم  مصالحوں کا استعمال کیا گیا ہے جن میں لونگ، بڑی الائچی، چھوٹی الائچی، چکر پھول، جاوتری، دار چینی، کالی مرچ، زیرہ، تیز  پتہ وغیرہ شامل ہیں۔

مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے لانچ کی گئی ساڑھیوں میں استعمال ہونے والے مصالحہ جات کو ایک ساتھ لوہے کے بڑے سے برتن میں باریکی سے کوٹا جاتا ہے۔

بعدازاں 48 گھنٹے سے زیادہ وقت تک ان مصالحوں کی پوٹلی بنا کر پانی میں رکھ دی جاتی ہے، پھر ایک بھٹی پر اس پانی کی پوٹلی رکھ کر اس کی بھاپ کپڑوں میں لگائی جاتی ہے جس سے ساڑیاں بنتی ہیں۔

اس عمل کے علاوہ بھی ساڑھیاں کئی مراحل سے گزاری جاتی ہیں، پھر کہیں جا کر امیونٹی بوسٹر ساڑھیاں تیار ہوتی ہیں، بتایا جاتا ہے کہ ایک ساڑھی کی تیاری میں 5 سے 6 دن کا وقت لگتا ہے، ان ساڑھیوں کی قیمت کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہ 3 سے 5 ہزار  روپے تک میں دستیاب ہوں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں