The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں آئینی بحران جنم لے چکا ہے: وزیرخارجہ

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت میں صورت حال بتدریج بگڑتی جا رہی ہے، جو صورت حال کشمیر میں تھی آج پورے بھارت میں نظر آرہی ہے اور وہاں ایک آئینی بحران جنم لے چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ ممالک جو پہلے خاموش تھے اب انہوں نے خاموشی توڑ دی۔ امریکا، برطانیہ، کینیڈا، سنگاپور اور یواےای نے ٹریول ایڈوائزی جاری کردی ہے، ان ممالک نے اپنے شہریوں کو بھارت جانے سے متنبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان میں معیشت تباہ اور واضح تقسیم دکھائی دے رہی ہے، بعض تنظیمیں بھارتی وزیرداخلہ اور ان کے قائدین پر پابندی کا مطالبہ کررہی ہیں، بھارت سرکار آر ایس ایس کے ایجنڈے پر گامزن ہے، بھارت کا سیکولر اور ڈیموکریٹک ریاست کا امیج آج دفن ہوگیا۔

وزیرخارجہ نے بتایا کہ بھارت میں ہندوراشٹرا اور ہندتوا کی سوچ کو نافذ کیا جا رہا ہے، بھارت کے 5 اگست کے غیرقانونی اقدام کے بعد دنیا بھر میں آواز اٹھائی، بہت سے لوگوں نے توجہ دی اور کچھ مصلحت کے تحت خاموش رہے، بابری مسجد کا فیصلہ آیا جس نے بھارت کے مسلمانوں کو چونکا دیا۔

مودی کی انتہا پسندانہ سوچ پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے: فردوس عاشق اعوان

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارتی عدلیہ کی جانبداری پر بھی لوگ ششدر رہ گئے، اب این آر سی کا اقدام سامنے آیا جس نے 20لاکھ لوگوں کو اسٹیٹ لیس کیا، بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے امتیازی سلوک برتا گیا، پوری بھارتی اپوزیشن سراپا احتجاج اور پورے بھارت میں مظاہرے ہیں، بھارتی سرکار پر امن احتجاج کرنے والوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا پر تشدد کیا گیا، جامعہ ملیہ کی بچیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا وہ دنیا کے سامنے ہے۔ پارلیمنٹ میں ایشو اٹھانے پر تمام اراکین نے میرا ساتھ دیا، متفقہ طور پر بھارت کے امتیازی قانون کے خلاف قرارداد منظور کرائی، پاکستان اس امتیازی قانون کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائے گا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں یہ نیا قانون امتیازی ہے ہندوستان کو فوری واپس لینا ہوگا، دہلی حکومت سمیت 5ریاستوں نے سٹیزن ایکٹ سے انکار کر دیا، اس وقت بھارت میں مرکز اور ریاستیں آمنے سامنے آچکی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں