site
stats
انٹرٹینمںٹ

بھارت کا مادام تساؤ: آخر دلی ہے، مجسمے بھی چھیڑ چھاڑ کا نشانہ بنیں گے

نئی دہلی: بھارت کا پہلا مادام تساؤ یعنی مومی مجسموں کا میوزیم اپنی تیاریوں کے آخری مراحل میں ہے تاہم اس کے افتتاح سے قبل بھارتی شہریوں نے خود ہی اسے مذاق کا نشانہ بنانا شروع کردیا کہ ریپ کیپیٹل کے نام سے جانے جانے والے دہلی میں مجسمے بھی جنسی چھیڑ چھاڑ سے محفوظ نہیں رہیں گے۔

بے شمار بالی ووڈ، ہالی ووڈ اداکاروں اور معروف شخصیات کے مجسموں پر مشتمل اس میوزیم کا افتتاح یکم دسمبر کو کیا جائے گا۔

افتتاح کے وقت اس میوزیم میں 50 مجسموں کو پیش کیا جائے گا جس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا مجسمہ بھی شامل ہوگا۔

میوزیم کی ابتدائی تصاویر اور ویڈیوز سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پوسٹ کی گئیں تو تعریف و تنقید کا طوفان امڈ آیا۔

بھارتی شہری خود ہی اسے طنز و مذاق کا نشانہ بنانے لگے۔ ایک شخص نے کہا، ’کچھ مجسموں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جائے گا اور ان سے چھیڑ چھاڑ کی جائے گی۔ آخر یہ دہلی ہے‘۔

جواباً دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد اس شخص کے مقابل اتر آئے اور اسے بتانے لگے کہ دہلی سے زیادہ بھارت کے دیگر شہروں میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شرح زیادہ ہے۔

اس بحث میں وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ ایک عوامی فورم پر اپنے ہی ملک کی بری تصویر پیش کر رہے ہیں۔

ایک صارف نے کہا کہ دہلی کے جاہل لوگوں کے لیے مادا تساؤ میوزیم آخر کیوں کھولا جارہا ہے؟ ’یہاں لوگ مجسموں کو چھونے کی کوشش کریں گے، ان کے ساتھ فضول تصاویر کھنچوائیں گے، اور ہوسکتا ہے انہیں توڑ بھی دیں‘۔

فیس بک پر ایک اور شخص نے کہا کہ ایک بار جب اسے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا تو مجسموں پر گٹکے کی پچکاریاں بھی دکھائی دیں گی۔

ایک شخص نے امید ظاہر کی کہ میوزیم کی انتظامیہ اس کی مناسب دیکھ بھال کرے اور یہاں آنے والے لوگ بھی اپنی اخلاقی ذمہ داری کا خیال رکھیں گے۔

نئی دہلی میں مومی مجسموں کا یہ میوزیم کب تک قائم رہتا ہے یا کس حالت میں پہنچا دیا جاتا ہے، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا تاہم بھارتیوں نے پہلے ہی اس کے لیے اپنے خدشات ظاہر کردیے جو کافی حد تک درست بھی ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top