The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں میڈیکل سائنس کی تاریخ کا انوکھا ٹرانسپلانٹ

نئی دہلی: بھارت کے شہر پونا میں میڈیکل سائنس کا ایسا انوکھا ٹرانسپلانٹ کامیابی سے کرلیا گیا جو اب تک بہت کم عمل میں آیا ہے۔

اس آپریشن میں ایک 21 سالہ خاتون کے جسم میں بچہ دانی ٹرانسپلانٹ کی گئی ہے جو پیدائشی طور پر اس سے محروم تھی۔ خاتون کو اس کی ماں نے اپنا رحم (یوٹریس) عطیہ کیا ہے۔

یہ بھارت میں اس نوعیت کا پہلا آپریشن ہے جس کے کامیاب ہوتے ہی ماں بننے کی صلاحیت سے محروم سینکڑوں خواتین نے آپریشن کے لیے رجسٹریشن کروالی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت کی کاشتکار خواتین ماں بننے کے اعضا سے جبراً محروم

اس پیچیدہ آپریشن کو مکمل ہونے میں پورا دن صرف ہوا جس میں پہلے ماں کا یوٹریس اس کے جسم سے بحفاظت نکالنے میں 4 گھنٹے کا وقت لگا۔

آپریشن کے روز اسپتال میں خواتین کے اہل خانہ کے علاوہ دیگر تمام رشتے داروں اور میڈیا کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی۔

ٹرانسپلانٹ کرنے والی ڈاکٹرز کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر شلیش پنٹامبکر کا کہنا تھا، ’ہم کوئی چانس نہیں لے سکتے تھے۔ اس آپریشن کے لیے ہم ڈاکٹرز پورے سال سے تحقیق اور تیاری کر رہے تھے‘۔

آپریشن میں شامل ایک گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر ملنڈ تلنگ کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن نہ صرف طب کے شعبے میں ایک اہم کامیابی ہے، بلکہ یہ بھارت کی ان ہزاروں خواتین کے لیے بھی امید کی ایک کرن ہے جو کسی وجہ سے ماں بننے سے محروم ہیں۔

مزید پڑھیں: اووری کے کینسر کی علامات جانیں

اس سے قبل یوٹریس ٹرانسپلانٹ کا پہلا آپریشن سنہ 1978 میں ڈنمارک میں کیا گیا تھا جو ایک خواجہ سرا کا تھا۔ تاہم 3 ماہ بعد ہی اس کے جسم نے اس عضو کو قبول کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔

سنہ 2014 میں سوئیڈن میں ٹرانسپلانٹڈ یوٹریس کے بعد ایک صحت مند بچے کی کامیاب پیدائش بھی عمل میں آئی تاہم یہ پیدائش قبل از وقت تھی اور ڈاکٹرز کو اس کے لیے سیزیرین آپریشن کرنا پڑا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں