The news is by your side.

Advertisement

کوکنگ آئل کا سب سے بڑا پیداواری ملک بھی بڑھتی قیمتوں پر قابو نہ پاسکا

جکارتہ : انڈونیشیا میں پام آئل کی برآمدات پر سخت پابندی کے باوجود کوکنگ آئل کی قیمتوں میں کمی نہ ہوسکی، حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کی ذمہ دار پام آئل مافیاز ہیں۔

اس حوالے سے انڈونیشیا کی حکومت کا مؤقف تھا کہ اسے مقامی طور پر خوردنی تیل کی کمی پوری کرنی ہے، لہٰذا وہ فی الوقت پام آئل کی برآمد پر پابندی عائد کر رہا ہے جس میں خام اور ریفائن شدہ تیل کی تمام اقسام شامل ہیں۔

دنیا کے چوتھے سب سے زیادہ آبادی والے ملک انڈونیشیا جو پام آئل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے گزشتہ ماہ اپریل سے کوکنگ آئل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی روک تھام کے پیش نظر مقامی مارکیٹ کو خوردنی تیل کی ترسیل معطل کرچکا ہے۔

پام آئل پر مذکورہ سخت پابندی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں سیکڑوں ملین ڈالر کا نقصان بھی ہوا، اس اقدام سے انڈونیشی عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور حکمرانوں کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔

انڈونیشی حکومت تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کیلیے ہرممکن اقدامات کررہی ہے لیکن پھر بھی عوام کو مناسب قیمت پر آئل فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انڈونیشیا کے حکام نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ ایک بار جب ملک بھر میں کوکنگ آئل کی بلک قیمتیں14ہزار روپیہ 0.9560ڈالر فی لیٹر پر واپس آجائیں گی تو برآمدات سے پابندی ہٹا دی جائے گی۔

انڈونیشیا میں کوکنگ آئل کی قیمت اس وقت اپنی بلندیوں پر ہے لیکن وزارت تجارت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمعہ تک کوکنگ آئل کی اوسطاً قیمت 17,300 روپے فی لیٹر تھی جو اپریل میں اوسطاً  18,000 روپے پر آگئی تھی لیکن گزشتہ سال جولائی میں13,300 روپے سے زیادہ تھی۔

اس حوالے سے انڈونیشیا کے وزیر تجارت محمد لطفی نے اپنے ایک بیان میں "پام آئل مافیا” کو اس تمام صورت حال سے فائدہ اٹھانے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں