The news is by your side.

Advertisement

کورونا کیخلاف اہم اسلامی ملک کی بڑی کامیابی

آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا نے مقامی طور پر تیار کردہ کورونا ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع کر دی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا نے ڈرگ ریگولیٹر کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد انسانوں پر مقامی تیار کردہ کوویڈ 19 ویکسین کی جانچ کا آغاز کر دیا ہے۔

ملکی طور پر تیار کر دہ "میرہ پوتیہ” (سرخ سفید) ویکسین جس کا نام انڈونیشیا کے قومی پرچم کے رنگوں کے نام پر رکھا گیا ہے اس کی تحقیق ایرلانگا یونیورسٹی اور بایوٹس فارماسیوٹیکل کی سرپرستی میں کی جارہی ہے۔

اس منصوبے کو 2020 میں شروع ہونے کے بعد سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن حکام اب پرُامید ہیں کہ اگر ٹرائلز کامیاب ہو گئے تو 2022 کے وسط تک اس کے استعمال کی اجازت دے دی جائے گی۔

وزیر صحت بودی سادیکن کا کہنا ہے کہ یہ ڈرگ جو انڈونیشیا کی ویکسینیشن مہم کے آخری مراحل میں شروع کی جائے گی دیگر ممالک کو بوسٹر جاب کے طور پر یا تین سے چھ سال کی عمر کے بچوں کے لیے ویکسین کے طور پر عطیہ کی جا سکتی ہے۔

ایرلانگا یونیورسٹی کے ڈین محمد ناصح کے مطابق میرہ پوتیہ ویکسین کو انڈونیشیا کی علما کونسل کی طرف سے ایک "حلال” سرٹیفیکیشن دیا گیا ہے جو مسلم اکثریتی ملک کی اعلیٰ مذہبی جماعت ہے ہمیں امید ہے کہ اس حلال سرٹیفیکیشن کے ساتھ اس ویکسین کے استعمال کے لیے عوام کا اعتماد بڑھے گا۔

انڈونیشیا نے 13 ویکسینز اور بوسٹرز کی منظوری دی ہے لیکن اس نے بنیادی طور پر چینی ساختہ جاب استعمال کیے ہیں، اور اپنی 270 ملین سے زیادہ آبادی کے لیے کافی خوراک حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں