The news is by your side.

Advertisement

انڈونیشیا طیارہ حادثہ، مسافروں کی تلاش کا کام روک دیا گیا

جکارتہ: سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے انڈونیشین طیارے کے مسافروں کی تلاش کا کام دو ہفتے بعد روک دیا گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کے سرچ اینڈ ریسکیو کے سربراہ نے مسافروں کی تلاش کے لیے کیے جانے والا آپریشن روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سمندر سے مزید کچھ نہ ملنے کے بعد آپریشن روکا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سرچ آپریشن کے دوران انسانی باقیات سے بھرے 196 بیگز سمندر سے نکالے گئے جس میں سے 76 افراد کی شناخت کرتے ہوئے انہیں لواحقین کے حوالے کردیا گیا۔

سربراہ سرچ اینڈ ریسکیو نے عوام سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ آپریشن کے دوران ہم ہر شخص کو مطمئن نہیں کرسکے جبکہ متاثرہ طیارے کے دوسرے بلیک باکس کی تلاش کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔

واضح رہے کہ 29 اکتوبر کو جاوا کے سمندر میں لائن ایئر کا مسافر طیارہ گرنے سے تمام 189 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حادثے کے بعد سرچ آپریشن کے دوران طیارے کا ایک بلیک باکس بھی ملا تھا تاہم دوسرے بلیک باکس کی تلاش جاری ہے۔

دوسری جانب طیارے میں موجود مسافروں کے لواحقین نے حکومت سے تفصیلات سامنے لانے اور ایئرلائن پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا جبکہ کمپنی کے مالک نے حادثے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے معافی بھی مانگ لی تھی۔

قبل ازیں تحقیقاتی افسران کے مطابق بلیک باکس سے یہ معلومات بھی سامنے آئیں کہ دوران پرواز انجن میں خرابی تھی جس کی وجہ سے طیارے میں بیٹھے مسافروں کو شور کی وجہ سے تشویش بھی تھی۔

بلیک باکس سے ملنے والی ریکارڈنگ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ پائلٹ بروقت اقدامات کر کے جہاز کو باحفاظت اتار سکتا تھا مگر وہ ناتجربے کاری کی وجہ سے کچھ بھی نہ کرسکا جس کی وجہ سے طیارہ گر کر تباہ ہوا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں