جمعرات, فروری 19, 2026
اشتہار

قدیم جزیرے پر انسان نما مخلوق کے شواہد مل گئے

اشتہار

حیرت انگیز

جکارتہ (12 جنوری 2026): انڈونیشیا کے جزیرے سولاویزی میں ہونے والی ایک اہم آثارِ قدیمہ کی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ جدید انسان اور انسان نما مخلوق کی ایک قدیم، لیکن اب معدوم قسم نے ایک ہی غار کو استعمال کیا، اور ممکن ہے کہ دونوں ایک ہی دور میں وہاں موجود رہے ہوں۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے PLOS ONE میں شائع ہوئی ہے اور اس کی تفصیلات ویب سائٹ ’’نیو اٹلس‘‘ نے پیش کی ہیں۔ سولاویزی جزیرہ، جو انڈونیشیا کا چوتھا اور دنیا کا گیارہواں بڑا جزیرہ ہے، ایشیا اور آسٹریلیا کے درمیان واقع ہونے کے باعث انسانی ہجرت کے قدیم راستوں میں ایک اہم پڑاؤ سمجھا جاتا ہے۔ اسی جغرافیائی اہمیت کے باعث یہ علاقہ ماہرینِ آثار قدیمہ کے لیے غیر معمولی دل چسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

جزیرے کے جنوبی حصے میں واقع ’’لیانگ بولو بیٹو‘‘ غار میں 2013 سے جاری کھدائی کے دوران سائنس دان 8 میٹر (تقریباً 26 فٹ) گہرائی تک پہنچ چکے ہیں، جہاں سے تقریباً 2 لاکھ سال پرانے آثار ملے ہیں۔ تحقیق کے مطابق تقریباً 40 ہزار سال قبل یہاں آثار قدیمہ کے ریکارڈ میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے، جو جدید انسانوں کی آمد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

اس دور سے پہلے کی تہوں میں ایسے پتھر کے اوزار ملے ہیں جو ایک قدیم انسان نما مخلوق استعمال کرتی تھی۔ ان اوزاروں کے ساتھ بندروں کی ہڈیاں بھی دریافت ہوئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مخلوق نسبتاً پیچیدہ شکار کی صلاحیت رکھتی تھی۔ تاہم فوسلز نہ ملنے کے باعث اس انسان نما کی حتمی شناخت ممکن نہیں ہو سکی، البتہ ماہرین نے ہومو ایریکٹس، ڈینسووانز یا کسی نامعلوم انسان نما قسم کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔

تقریباً 40 ہزار سال قبل کی تہوں میں جدید پتھر کے اوزار، زیورات، غاروں میں بنے نقوش اور علامتی رویوں کے شواہد ملے ہیں، جو جدید انسان (ہومو سیپینز) کی واضح خصوصیات سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی جزیرے میں ایک بڑی آبادیاتی اور ثقافتی تبدیلی کی عکاس ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ابھی ثابت نہیں ہو سکا کہ دونوں اقسام ایک ہی وقت میں غار میں موجود تھیں، لیکن ’’لیانگ بولو بیٹو‘‘ غار اس ممکنہ وقتی اوورلیپ کو سمجھنے کے لیے ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ تحقیق کے نگران ایڈم بروم کے مطابق سولاویزی واحد خطہ ہے جہاں انسانوں کی آمد سے بہت پہلے انسان نما مخلوق موجود تھی، اس لیے مزید گہری کھدائی سے شاید وہ دور بھی سامنے آ جائے جب انسانوں کی دو اقسام آمنے سامنے آئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھدائی کا عمل جاری رہے گا، کیوں کہ امکان ہے کہ غار کی مزید نچلی تہوں میں ایسی دریافتیں موجود ہوں جو نہ صرف سولاویزی بلکہ انسانی ارتقا اور ہجرت کی عالمی تاریخ کو بھی نئی جہت دے سکیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں