انڈونیشیا بھی ان ممالک میں شامل ہونے جارہا ہے جہاں بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کی جارہی ہے۔
وزارت مواصلات اور ڈیجیٹل نے جمعہ کو کہا کہ انڈونیشیا 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی کو محدود کر دے گا۔
سوشل میڈیا کے نابالغوں کی حفاظت اور ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات پر بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان متعدد حکومتوں نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
آسٹریلیا نے دسمبر میں انڈر 16 کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی متعارف کرائی تھی اور اسپین نے بھی گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی لگا دے گا۔
انڈونیشیا کے پڑوسی ملائیشیا نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2026 سے 16 سال سے کم عمر کے صارفین کے لیے سوشل میڈیا پر بھی پابندی لگائے گا۔
انڈونیشیا کے کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل منسٹر میوتیا حفید نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ حکومت جمعہ کو جاری کردہ وزارتی ضابطے کے ذریعے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی محدود کر دے گی۔
28 مارچ سے "ہائی رسک پلیٹ فارمز” پر 16 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس کو آہستہ آہستہ غیر فعال کر دیا جائے گا۔ ان پلیٹ فارمز میں TikTok، Facebook، Instagram، اور Roblox شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں احساس ہے کہ اس سے ابتدا میں تکلیف ہو سکتی ہے بچے شکایت کر سکتے ہیں اور والدین ان کی شکایات سے نمٹنے میں الجھن کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن معاشرتی بہتری کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے انڈونیشیا اس طرح کی پابندیاں لگانے والا پہلا غیر مغربی ملک ہوگا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


