ہفتہ, اپریل 18, 2026
اشتہار

کس ملک نے بورڈ آف پیس سے الگ ہونے کی دھمکی دے دی؟

اشتہار

حیرت انگیز

جکارتہ(6 مارچ 2026): انڈونیشیا کے صدر نے واضح کر دیا ہے کہ اگر مجوزہ ‘بورڈ آف پیس’ سے فلسطینی عوام کو کوئی حقیقی اور عملی فائدہ نہ پہنچا تو جکارتہ اس فورم سے علیحدگی اختیار کرنے میں دیر نہیں کرے گا۔

انڈونیشین حکام کے مطابق کسی بھی بین الاقوامی امن اقدام یا فورم کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس کے نتیجے میں فلسطینیوں کے حقوق اور مفادات کا حقیقی تحفظ یقینی بنایا جائے۔

انڈونیشیا کا موقف ہے کہ اگر یہ امن عمل صرف سفارتی بیانات اور نشست و برخاست تک محدود رہا اور مظلوم فلسطینی عوام کو کوئی عملی ریلیف نہ ملا، تو انڈونیشیا کے لیے اس عمل کا حصہ بنے رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔

واضح رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی رکھنے والا ملک انڈونیشیا طویل عرصے سے فلسطینی کاز کا بھرپور حامی رہا ہے۔ جکارتہ کا مستقل موقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب فلسطینیوں کو عالمی قوانین کے مطابق انصاف، خودمختاری اور ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں