اتوار, اگست 9, 2026
اشتہار

انڈونیشیا میں ڈگری حاصل کرنے کے لیے دوشیزگی کا ٹیسٹ لازمی قرار

اشتہار

حیرت انگیز

انڈونیشیا میں مقامی حکومت نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت ان لڑکیوں کو کسی تعلیمی ادارے سے کوئی ڈگری نہیں دی جائے گی جو دوشیزگی کا ٹیسٹ پاس نہیں کرسکتیں۔

یہ قانون مشرقی جاوا کے شہر جیمبر کی مقامی حکومت نے منظور کیا ہے۔ لڑکے اس قانون سے مستثنیٰ ہیں۔

ایک انڈونیشین اخبار کے مطابق علاقے کی مقامی حکومت نے اس قانون کو وکیلوں کے ساتھ مل کر تیار کیا اور وضاحت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اکثر لڑکیاں ایک سے زائد لڑکوں کے ساتھ وقت گزار چکی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گو کہ یہ مضحکہ خیز بات ہے لیکن جو لڑکیاں اس ٹیسٹ میں ناکام رہیں گی انہیں ڈگری نہیں جائے گی۔

indonesia

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس قانون کو پورے جاوا میں پھیلایا جائے گا۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق یہ افسوسناک صورتحال ہے، اور یہ انڈونیشیا کی جانب سے تمام صنفی امتیاز کے خاتمے کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے جس پر انڈونیشیا نے دستخط کیے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ انڈونیشین صدر کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیئے اور لڑکیوں کے لیے دوشیزگی کے ٹیسٹ کو ختم کرنا چاہیئے۔

انڈونیشیا 2014 میں خواتین ملٹری اہلکاروں کے لیے بھی دوشیزگی کا ٹیسٹ لازمی قرار دے چکا ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں