پیر, فروری 16, 2026
اشتہار

11 افراد کو لے جانے والے طیارے کا ملبہ ایک دن بعد مل گیا

اشتہار

حیرت انگیز

جکارتہ (18 جنوری 2026): انڈونیشیا میں ریسکیو اہلکاروں کو 11 افراد کو لے جانے والے طیارے کا ملبہ مل گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کو انڈونیشیا کے امدادی کارکنوں نے لاپتا ہونے والے ایک طیارے کا ملبہ برآمد کر لیا ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 11 افراد کو لے کر بادلوں والے موسم میں سولاویسی جزیرے کے ایک پہاڑی علاقے کے قریب پہنچتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا۔

طیارہ انڈونیشیا کے مرکزی جزیرے جاوا کے شہر یوگیاکارتا سے جنوبی سولاویسی کے صوبائی دارالحکومت مکاسر جا رہا تھا، اور ہفتے کے روز ریڈار سے غائب ہو گیا تھا۔

مکاسر کے سرچ اینڈ ریسکیو دفتر کے سربراہ محمد عارف انور کے مطابق، اتوار کی صبح فضائیہ کے ہیلی کاپٹر میں موجود ایک ریسکیو ٹیم نے ماؤنٹ بولوساراؤنگ کی ڈھلوان پر جنگل والے علاقے میں ایک چھوٹے طیارے کی کھڑکی جیسی چیز دیکھی۔ انور نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اس کے بعد زمینی ریسکیو ٹیموں نے طیارے کے مرکزی ڈھانچے اور دم کے بڑے حصوں سے مطابقت رکھنے والا ملبہ ایک کھڑی شمالی ڈھلوان پر بکھرا ہوا پایا۔

دنیا خلائی مواصلات کے غیر معمولی مرحلے میں داخل، ایران میں اسٹارلنک کو پیچیدہ صورتحال کا سامنا

انھوں نے کہا کہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں متاثرین کی تلاش پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، خاص طور پر ان افراد پر جو ممکنہ طور پر ابھی زندہ ہوں۔

یہ طیارہ، جو ایک ٹربوپروپ اے ٹی آر 42-500 تھا، انڈونیشیا ایئر ٹرانسپورٹ کے زیرِ انتظام تھا اور آخری بار جنوبی سولاویسی کے پہاڑی ضلع ماروس کے لیانگ-لیانگ علاقے میں اس کا سراغ ملا تھا۔ طیارے میں آٹھ عملے کے ارکان اور وزارتِ بحری امور و ماہی گیری کے 3 مسافر سوار تھے، جو فضائی سمندری نگرانی کے ایک مشن کے تحت سفر کر رہے تھے۔

اتوار کے روز نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ ریسکیو اہلکار شدید دھند میں لپٹی ہوئی ایک تنگ اور کھڑی پہاڑی کگر پر پیدل سفر کرتے ہوئے بکھرے ہوئے ملبے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا اپنے 17 ہزار سے زائد جزیروں کو آپس میں جوڑنے کے لیے فضائی سفر اور فیری سروسز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کا یہ ملک حالیہ برسوں میں ٹرانسپورٹ کے متعدد حادثات کا شکار رہا ہے، جن میں طیاروں اور بسوں کے حادثات سے لے کر فیریوں کے ڈوبنے کے واقعات تک شامل ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں