انڈونیشیا میں پاکستانی شہری کی سزائے موت پرعمل درآمد روک دیا گیا -
The news is by your side.

Advertisement

انڈونیشیا میں پاکستانی شہری کی سزائے موت پرعمل درآمد روک دیا گیا

جکارتہ: انڈونیشیا میں پاکستانی شہری ذوالفقار علی کی سزائے موت پر عمل درآمد کو روک دیا گیا ہے اور ان کی کیس پر نظر ثانی کی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔

ذوالفقار علی کے اہل خانہ خبر سن کرخوشی سے نہال ہوگئے ،تفصیلات کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں پاکستانی شہری ذوالفقارعلی کی سزائے موت کو روک دیا گیا ہے۔

انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر عاقل ندیم نے اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے سرکاری طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد کو روک دیا گیا ہے،تاہم ابھی یہ اطلاع نہیں ہے کہ عارضی طور پر کیا گیا ہے یا مستقل طور پر۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید معلومات بعد میں دی جائیں گی پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ انڈونیشین حکام نے یقین دلایا تھا کہ تحفظات صدر تک پہنچائیں گے ,خوشی ہے کہ ذوالفقار علی کی جان بچ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی کا کیس بہت مظبوط ہے، امید ہے کہ سزا پر عمل درآمد نہیں ہوگا،

ذوالفقار علی کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کی اطلاع ملتے ہیں اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اہل خانہ سجدے میں گر گئے۔

ذوالفقار کی بہن نے دعائین کرنے پر قوم کا شکریہ ادا کیا ہے، انہوں نے کہا کہ میں پوری قوم کی مشکور ہوں۔

اطلاعات کے مطابق انڈونیشیا میں اسمگلنگ کیس میں چودہ میں سے چار افراد کو سزائے موت دے دی گئی ہے اور دس افراد کی سزا پر عمل درآمد روکا گیا ہے جس مین ذوالفقارعلی بھی شامل ہے۔

سزائے موت پانے والوں میں تین غیر ملکی اور ایک انڈونیشی باشندہ شامل ہے، پاکستانی سفیر عاقل ندیم کا کہنا ہے کہ سزائے موت کے فیصلے پر عملد رآمد انڈو نیشیا کے ایک جزیرے پر کیا گیا۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں