The news is by your side.

Advertisement

گہرے سمندر میں ماہی گیروں کو گمشدہ تہذیب کا خزانہ مل گیا

انڈونیشیا میں سنہری جزیرے کے نام سے مشہور داستان حقیقت کے طور پر سامنے آگئی، ماہی گیروں نے غوطہ خوری کے دوران ایک مقام سے ڈھیروں سونا اور دیگر بیش قیمت اشیا دریافت کرلیں جو ایک قدیم انڈونیشی تہذیب سے تعلق رکھتی ہیں۔

انڈونیشیا میں جزیرے سماٹرا کے قریب ایک گمشدہ جزیرے کا ذکر کیا جاتا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہاں سونے کے خزانے موجود ہیں۔ حال ہی میں چند ماہی گیروں نے اس مقام سے ڈھیروں اشیا دریافت کی ہیں۔

ماہی گیروں کو ملنے والی اشیا میں قیمتی جواہرات، سونے کے زیورات، سکے اور کانسی کی گھنٹیاں شامل ہیں۔ دریافت ہونے والی اشیا میں ایک قد آدم بدھا کا مجسمہ بھی شامل ہے جو بیش قیمت زیورات سے آراستہ ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ نوادارت 7 سے 13 صدی کے ہیں جب اس خطے میں ایک طاقتور تہذیب ہوا کرتی تھی، تاہم ایک صدی بعد یہ تہذیب پراسرار طور پر غائب ہوگئی جس کی وجوہات آج بھی نامعلوم ہیں۔

برطانوی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر سین کنگزلے کا کہنا ہے کہ ان زیورات کی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سلطنت کوئی دیو مالائی داستان نہیں بلکہ حقیقت ہے۔

اس جزیرے کی تلاش گزشتہ 5 سال سے کی جارہی تھی اور اب تک یہاں سے ڈھیروں جواہرات، سونے کے سکے اور مجسمے دریافت ہوچکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلطنت کا زیادہ تر حصہ پانی پر آباد تھا اور مقامی افراد نقل و حرکت کے لیے لکڑی کی کشتیاں استعمال کرتے تھے۔ جب یہ سلطنت زیر آب آئی تو لکڑی کے گھر، محل اور کشتیاں سب ہی کچھ ڈوب گیا۔

ڈاکٹر سین کا کہنا ہے کہ اب تک یہاں سے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والی متنوع اشیا دریافت ہوئی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سلطنت کے فارس (ایران)، بھارت اور چین سے بہترین تعلقات تھے اور ان ممالک کے درمیان تجارت بھی ہوا کرتی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں