The news is by your side.

لوڈو: قوموں کی "ناسٹلجیائی حسیّت” کا حصّہ ہے!

ہمارے بچپن میں "لوڈو” کا کھیل بہت مقبول تھا۔ گھر میں فرصت میں یہی کھیل کھیلا جاتا تھا اور بڑی عمر کے لوگ تاش یا شطرنج کھیلا کرتے تھے۔

لوڈو کو حکمتِ عملی بورڈ کا کھیل کہا جاتا ہے جو دو سے چار کھلاڑی کھیلتے ہیں، جس میں کھلاڑی اپنے چار ٹوکنوں یا گوٹوں کی شروعات ایک انفرادی رنگ کے گھر سے شروع کرتے ہیں۔ اور اس کا اختتام ایک ” گھر” میں جاکر ہوتا ہے۔ ان چار گھروں کا رنگ لال، نیلا، سبز اور پیلا ہوتا ہے۔ دوسرے کراس (قوسی) اور دائرے والے کھیلوں کی طرح، لوڈو بھی ہندوستانی کھیل پاچیسی (Pachisi) سے ماخوذ ہے، لیکن یہ کھیل کھینے میں آسان ہے۔ اور چھوٹے عمر کے بچے بھی آسانی سے کھیلنا سیکھ لیتے ہیں۔

اس کھیل اور اس کی مختلف حالتیں کئی ممالک میں اور مختلف ناموں سے مشہور ہیں۔ لوڈو کو برطانیہ میں اوکرز، ہندوستان میں پاچیسی، سویڈن میں فیا، اسپین میں پرچیس، اور کولمبیا میں پرتگیز کہتے ہیں۔

ہندوستان میں اس کھیل کے ارتقا کا ابتدائی ثبوت ایلورا کی غاروں میں لوڈو کے تختتوں (بورڈوں) سے ملتا ہے۔ اس کا اصل نسخہ ہندوستانی رزمیہ مہا بھارت میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ یہ کھیل قدیم زمانے میں ‘چوپر’ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ معاصر لوڈو ہندوستان کے مغل بادشاہوں نے کھیلا تھا جس کی ایک قابل ذکر مثال اکبر بادشاہ ہے۔

اکبر اور ان کی رانیوں کے علاوہ یہ مغل دربار کا پسندیدہ کھیل رہا ہے۔ پاچیسی کو ڈائس کپ کے ساتھ مکعب ڈائی استعمال کرنے کے لیے تبدیل کیا گیا اور 1896 میں انگلستان میں "لوڈو” کی حیثیت سے پیٹنٹ کر دیا گیا۔ برطانیہ کی شاہی بحریہ نے لوڈو کو بورڈ گیم اوکرز میں تبدیل کردیا۔ لوڈو کئی قوموں کی "ناسٹلجیائی حسیّت” کا حصہ ہے۔

(احمد سہیل کی طویل تحریر سے چند منتخب پارے)

Comments

یہ بھی پڑھیں