بھارتی آبی منصوبوں پر اعتراضات اجلاس کے بعد فائنل کیے جائیں گے، مہرعلی شاہ -
The news is by your side.

Advertisement

بھارتی آبی منصوبوں پر اعتراضات اجلاس کے بعد فائنل کیے جائیں گے، مہرعلی شاہ

لاہور : پاکستانی انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت جا کر بلاروک ٹوک چار منصوبوں کا معائنہ کیا، آئندہ اجلاس کے بعد اعتراضات کو فائنل کیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بھارت کے دورے سے واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، مہر علی شاہ کا کہنا تھا کہ آبی منصوبوں پر اعتراضات کو اس وقت تک فائنل نہیں کرسکتے جب تک فریقین میں باضابطہ میٹنگ نہ ہو۔

بھارتی عہدیداروں کا رویہ اچھا اور کو آپریٹیو تھا، بلاروک ٹوک جہاں ہم جانا چاہتے تھے وہاں گئے اور  پاکستانی وفد نے دریائے چناب پر چار آبی منصوبوں کا معائنہ بھی کیا، انہوں نے بتایا کہ رتلے اور لوئیر کلنائی پر ابھی کوئی تعمیر نہیں ہوئی، پاکل دل پر ان کا کام چل رہا تھا، وہ بھی صرف ایک سے دو فیصد ہے۔

پانی کے بہاؤ کا رخ بدلنے کیلئے جو ٹنل بنائی جانی تھی وہ ابھی شروع نہیں ہوئی۔ پاکستانی انڈس واٹر کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی حکام بھی پاکستان کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے بھی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

بھارت میں الیکشن کے بعد بھارتی وفد کی آمد متوقع ہے، اپنے تحفظات سے متعلق آئندہ سندھ طاس کمشنر کی باقاعدہ میٹنگ میں کیا جائے گا۔

آبی تنازعات پر مذاکرات ، پا کستانی وفد کی زیر تعمیر آبی منصوبوں کے معائنے کیلئے  بھارت روانگی

واضح رہے کہ27جنوری کو پاکستانی وفد دریائے چناب پر زیر تعمیر آبی منصوبوں کے معائنے کے لئے کل بھارت پہنچا تھا، مہرعلی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پرپا کستان نے بھر پور آواز بلند کی ہے۔

قبل ازیں بھارتی انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا کی سربراہی میں گزشتہ برس اگست میں بھارتی وفد پاکستان آیا تھا، مذاکرات میں پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ پکل ڈل، لوئرکلنائی پن بجلی گھروں کے ڈیزائن پراعتراض ہے۔

پاکستان کا مؤقف تھا کہ بھارت مغربی دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرکے پاکستان کو خشک سالی کا شکار کردینا چاہتا ہے جو کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجو د ’سندھ طاس معاہدے‘ کی خلاف ورزی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں