پیر, جنوری 19, 2026
اشتہار

اسکندر مرزا، ایوب اور سندھ طاس معاہدہ

اشتہار

حیرت انگیز

دریائے سندھ کا نظام پاکستان کی زراعت اور معیشت کی شہ رگ سمجھا جاتا ہے۔ بیسویں صدی کے سب سے اہم بین الاقوامی آبی معاہدوں میں سے ایک، سندھ طاس معاہدہ (Indus Water Treaty) 19 ستمبر 1960 کو باضابطہ طور پر طے پایا۔ اس کے تحت تین مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے سپرد کیے گئے، جب کہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے خصوصی استعمال کا حق دیا گیا۔ یہ تقسیم عالمی بینک کی ثالثی میں عمل میں آئی اور عالمی سطح پر اسے دو ازلی دشمن ممالک کے درمیان تعاون کی ایک مثال قرار دیا گیا۔تاہم پاکستان کے اندر اسے طویل عرصے سے ایک جلدبازی میں کیا گیا ایسا فیصلہ سمجھا جاتا ہے جس نے ملک کے طویل المدتی آبی تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا۔

اصل تنازعہ دو رہنماؤں کے درمیان ہونے والے شدید اختلافِ رائے سے جڑا ہوا تھا۔ صدر اسکندر مرزا (1956–58) اور جنرل محمد ایوب خان (1958–69)۔ مرزا عالمی بینک کی تجاویز پر سخت مزاحمت کرتے رہے اور پاکستان کے تاریخی آبی حقوق کے لیے پُرعزم تھے، جب کہ ایوب خان نے ایک عملی مگر عجلت پسندانہ رویہ اختیار کیا جس نے اسے جلد حتمی معاہدے کی شکل دے دی۔ یہ مضمون اسی اختلاف کو واضح کرنے کی کوشش ہے کہ کس طرح مرزا کا مستقبل بینی پر مبنی موقف، ایوب کی جلد بازی سے ٹکرا گیا، اور کس طرح وہی عجلت آج پاکستان کے بگڑتے ہوئے آبی بحران کی بنیاد بنی۔

سندھ طاس کے دریا——ایک تہذیبی دھارا

سندھ طاس کے دریا برصغیر کی قدیم تہذیبوں کے لیے زندگی کا ذریعہ رہے ہیں۔ ستلج اور راوی پر برطانوی دور کے نہری نظام نے تقسیمِ ہند سے قبل پنجاب کی زراعت کو پروان چڑھایا۔ 1947 کے بعد پاکستان کی تقریباً 80 فیصد زرعی زمین ان ہی دریاؤں کے پانی پر منحصر تھی۔ یوں اگر پانی کی فراہمی رک جاتی، تو ملک کی معیشت تباہ ہو سکتی تھی۔ 1948 میں بھارت نے جب عارضی طور پر نہری پانی بند کیا تو پاکستان کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ پانی کو بطور ہتھیار (weapon) استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں 1951 میں عالمی بینک کی ثالثی میں مذاکرات شروع ہوئے، جو ایک دہائی سے زائد جاری رہے۔

بینک کی حتمی تجویز سادہ تھی:
بھارت کو تین مشرقی دریا، پاکستان کو تین مغربی دریا۔ لیکن اس ”عملی حل“ کے پیچھے کئی گہرے عدم مساوات پوشیدہ تھے۔ پاکستانی پنجاب کا بیشتر نہری نظام مشرقی دریاؤں سے منسلک تھا۔ اگر ان دریاؤں کا پانی بھارت کو دے دیا جاتا تو پاکستان کے لیے متبادل آبی ذرائع (replacement works) جیسے ڈیمز، نہری رابطے اور ذخائر بنانا ناگزیر ہو جاتا۔

عالمی بینک کا کردار

محفوظ شدہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ درحقیقت بھارت سے زیادہ عالمی بینک ”صاف تقسیم“ (clean partition) کے حق میں تھا۔ 1954میں بینک کے میمورنڈم میں تجویز دی گئی کہ راوی، بیاس، اور ستلج بھارت کے لیے، جب کہ سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے لیے مخصوص کیے جائیں۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ بینک نے خود تسلیم کیا کہ یہ تجویز بھارت کی نہیں بلکہ بینک کی اپنی تھی تاکہ ”وضاحت اور سادگی” پیدا کی جا سکے۔

اسکندر مرزا کا مؤقف

گورنر جنرل (1955–56) اور بعد ازاں صدر (1956–58) کی حیثیت سے اسکندر مرزا نے ان مذاکرات کی قیادت اہم مرحلے پر کی۔ ان کا مؤقف دو اصولوں پر مبنی تھا کہ پاکستان کے تاریخی آبی حقوق کو بغیر ضمانت کے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ کسی بھی معاہدے میں بین الاقوامی مالی معاونت کے ساتھ متبادل ذخائر کی تعمیر کی یقینی ضمانت ہونی چاہیے۔ عالمی بینک کے 24 مارچ 1956 کے ایک نوٹ کے مطابق پاکستان نے واضح طور پر کہا کہ ”ستلج کے پانی کی منتقلی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مجوزہ منگلا ڈیم کا منصوبہ بین الاقوامی مالی امداد سے شروع نہ کیا جائے“۔ یہ صرف ایک اعتراض نہیں تھا بلکہ ایک اصولی مؤقف تھا۔

پاکستان کی تین بنیادی شرائط تھیں:
منگلا اور تربیلا جیسے متبادل آبی ذخائر کی بین الاقوامی ضمانت شدہ تعمیر۔ نہری رابطوں کی بروقت تکمیل تاکہ مشرقی نہری کالونیاں خشک نہ ہوں۔ تعمیر کے دوران عارضی پانی کی فراہمی بھارت کی طرف سے جاری رکھی جائے۔ 1956 کی ایک امریکی سفارتی رپورٹ میں لکھا گیا کہ ”پاکستان کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اسے مشرقی دریاؤں کے تاریخی استعمال سے محروم کرے، جب تک انتہائی مضبوط ضمانتیں فراہم نہ ہوں۔“

اسکندر مرزا کی سخت وارننگ

اکتوبر 1957 میں اسکندر مرزا کے ایک بیان نے پورے خطے میں ہلچل مچا دی۔ ڈاکٹر اندالہ زیڈعالم کے مطابق (مطالعہ: The Geographical Journal)، بھارت کے وزیرِ آبپاشی و بجلی نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ پاکستان کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ ”بھارت کی جانب سے پانی کی روانی روکنے کی کسی بھی کوشش کو جارحیت تصور کیا جائے گا، اور پاکستان جارحیت کا جواب جارحیت سے دے گا۔ اگرچہ نئی دہلی نے اس بیان کو ”نظر انداز“ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مذاکراتی ماحول خراب نہ ہو، لیکن اس واقعے نے مرزا کو ایک سخت گیر اور اصولی رہنما کے طور پر نمایاں کر دیا جو پاکستان کے آبی حقوق کے دفاع پر کسی سمجھوتے کو تیار نہ تھے۔

1959 میں عالمی بینک کے ایک ورکنگ نوٹ کے مطابق:
”صدر مرزا نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے جو پاکستان کے راوی اور ستلج پر ترجیحی حقوق کو تسلیم نہ کرے۔ اسی سال جولائی میں پاکستان کے تیار کردہ جوابی مسودے میں تحریر تھا کہ ”بھارت مغربی دریاؤں پر پاکستان کی رضامندی کے بغیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹس شروع نہیں کر سکتا۔“ اسکندر مرزا کی پالیسی محض ضد نہیں تھی، یہ پاکستان کے طویل المدتی مفاد کی حفاظت تھی۔

ایوب خان کا دور: جلد بازی میں تصفیہ

اکتوبر 1958 میں اسکندر مرزا کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد جنرل ایوب خان برسرِ اقتدار آئے۔ اسکندر مرزا کے برعکس، ایوب خان نے عالمی بینک کی تجویز کو کم سے کم مزاحمت کے ساتھ قبول کیا۔ صرف 18 ماہ کے اندر، ایوب خان نے وزیرِاعظم نہرو اور عالمی بینک کے صدر یوجین بلیک کے ساتھ سندھ طاس معاہدے پر دستخط کر دیے۔ جہاں سے اسکندر مرزا نے مذاکرات کو روکا، وہیں سے جنرل ایوب خان نے انہیں تیزی سے آگے بڑھایا۔ایوب خان نے امریکی صدر آئزن ہاور کو یقین دلایا کہ ”مذاکرات بہت اچھے انداز میں جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے پر منتج ہوں گے“، انہوں نے کھلے عام امریکہ اور عالمی بینک کی مالی معاونت کا خیر مقدم کیا۔

یہ طرزِ عمل اسکندر مرزا کی پالیسی سے بالکل مختلف تھا۔ اکتوبر 1958 میں امریکی سفارت خانے کی ایک رپورٹ میں لکھا گیا کہ مرزا کو کئی اندرونی پابندیوں کا سامنا ہے، اور یہ کہ ”فیصلے کا طریقہ اور وقت، دونوں فوج کے مشورے اور جنرل ایوب کی رضامندی پر منحصر ہوں گے۔“ جب ایوب نے اقتدار پر مکمل قبضہ کر لیا، تو مذاکرات تیزی سے تصفیے کی طرف بڑھنے لگے۔

بعد ازاں یہ بات واضح ہوئی کہ ایوب خان کے جارحانہ بیانات زیادہ تر اندرونی سیاسی تاثر کے لیے تھے، نہ کہ کوئی سخت سفارتی حکمتِ عملی۔ وہ ایک طرف عوام کے سامنے سخت مؤقف دکھا رہے تھے، اور دوسری جانب عالمی بینک اور مغربی طاقتوں کو یقین دلا رہے تھے کہ وہ ان کی شرائط پر معاہدہ کرنے کو تیار ہیں۔ اس دوہری حکمتِ عملی نے انہیں اندرونِ ملک سیاسی جواز اور بیرونی دنیا میں ِ قبولیت دلائی۔

ایوب کی حکمتِ عملی اور اس کا پس منظر

ایوب خان نے فوجی انقلاب کے بعد اقتدار حاصل کیا تھا، اور وہ جلد از جلد سفارتی کامیابیاں حاصل کر کے اپنی حکومت کو جائز ثابت کرنا چاہتے تھے۔ سندھ طاس معاہدے نے انہیں یہ موقع فراہم کیا۔ کیونکہ اس کے تحت پاکستان کو منگلا، تربیلا اور رابطہ نہروں کے لیے وسیع بین الاقوامی مالی امداد حاصل ہوئی۔ لیکن اس تیز رفتاری میں ایوب خان نے وہ تمام تحفظات نظرانداز کر دیے جنہیں مرزا نے لازمی قرار دیا تھا۔

انہوں نے طویل المدتی خودمختاری کے بجائے قلیل مدتی سیاسی اور معاشی استحکام کو ترجیح دی۔

معاہدے کے نتائج—- اسکندر مرزا کی پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں

اُس وقت سندھ طاس معاہدے کو ”عملیت پسندی کی فتح” کہا گیا، لیکن آج چھ دہائیاں گزرنے کے بعد اس کے نقصانات عیاں ہیں۔ اسکندر مرزا کی بہت سی وارننگز درست ثابت ہو چکی ہیں۔ مشرقی دریاؤں کو مکمل طور پر بھارت کے حوالے کر دینے سے پاکستان نے اپنے نظامِ آب کا تقریباً ایک تہائی حصہ کھو دیا، اور مغربی دریاؤں سے پانی کو مشرقی نہروں تک پہنچانے کے لیے بھاری انجینیئرنگ منصوبوں پر انحصار کرنا پڑا۔ منصوبوں میں تاخیر، بڑھتی لاگت، اور دیکھ بھال کے مسائل نے کسانوں کو براہِ راست متاثر کیا۔

اگرچہ معاہدے کے تحت بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کے مصرفی استعمال (consumptive use) سے روکا گیا تھا، لیکن غیر مصرفی منصوبوں (consumptive projects-non) کے لیے گنجائش چھوڑ دی گئی۔ اسی قانونی نرمی کا فائدہ اٹھا کر بھارت نے چناب اور جہلم پر درجنوں ہائیڈرو پاور منصوبے تعمیر کیے اور کئی مزید منصوبہ بندی میں ہیں۔

پاکستان نے متعدد بار بین الاقوامی ثالثی میں اعتراضات اٹھائے، مگر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ یہ وہی خطرہ تھا جس کی پیش گوئی اسکندر مرزا نے 1958 کے اپنے جوابی مسودے میں کی تھی، جہاں انہوں نے زور دیا تھا کہ ”بھارت مغربی دریاؤں پر پاکستان کی منظوری کے بغیر کوئی بھی منصوبہ شروع نہیں کر سکتا“ مگر ایوب خان نے یہ شرط ختم کر دی۔

بڑھتی آبادی، موسمیاتی دباؤ اور کمزور خود مختاری

آبادی میں اضافے، بڑھتی ہوئی پانی کی طلب، اور موسمیاتی تبدیلیوں نے بحران کو مزید شدید کر دیاہے۔ پاکستان اب صرف مغربی دریاؤں پر انحصار کرتا ہے، جن کا بہاؤ موسمی اتار چڑھاؤ اور بھارت کے اپ اسٹریم منصوبوں پر منحصر ہے۔ اگر اسکندر مرزا کی بات مانی جاتی اور پاکستان کو مشرقی دریاؤں پر جزوی حق حاصل رہتا تو شاید ملک کے پاس آج زیادہ لچکدار آبی حکمتِ عملی ہوتی۔ سب سے نقصان دہ پہلو یہ تھا کہ ایوب خان کی جلد بازی نے ایک خطرناک نظیر قائم کی۔ دنیا کو یہ پیغام ملا کہ پاکستان دباؤ میں سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ بعد کے تنازعات، چاہے سیاچن ہو یا کشمیر، بھارت اور عالمی ثالث یہی مثال پیش کرتے رہے کہ ”پاکستان نے پانی پر بھی جلدی سمجھوتہ کیا تھا۔“

اسکندر مرزا کا وسیع نظریہ

آبی مسئلے سے ہٹ کر بھی اسکندر مرزا ہمیشہ پاکستان کے طویل المدتی مفاد کو ترجیح دیتے تھے۔ انہوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ نوآبادیاتی دور کے ریکارڈز (colonial records) میں سے پاکستان کے حصے کی دستاویزات خصوصاً آبپاشی اور زمینی محصولات کے ریکارڈ فراہم کیے جائیں تاکہ نیا ملک مؤثر طور پر نظم و نسق چلا سکے۔

1957 میں انہوں نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کو ہدایت دی کہ ”برطانیہ کے انڈیا آفس کے ریکارڈز پر پاکستان کے دعوے سے کسی صورت دستبردار نہ ہوا جائے۔“ اگرچہ برطانیہ نے اصل دستاویزات دینے سے انکار کر دیا، مگر یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مرزا نہ صرف دریاؤں بلکہ علمی اور انتظامی خود مختاری کے تحفظ کے بھی قائل تھے۔

ایوب خان کے حامیوں کا مؤقف اور اس کی کمزوریاں

ایوب خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ فیصلہ کن نہ ہوتے تو پاکستان کبھی منگلا اور تربیلا ڈیم کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ حاصل نہ کر پاتا۔ وہ انہیں سندھ بیسن کو دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نظام میں بدلنے کا کریڈٹ دیتے ہیں۔ مگر یہ دفاع اس قیمت کو نظرانداز کرتا ہے جو اس معاہدے کے نتیجے میں ادا کرنی پڑی۔ ڈیمز کی تعمیر ممکن تھی، مگر مشرقی دریاؤں کو مکمل چھوڑے بغیر بھی۔ اسی طرح، مغربی منصوبوں کے بارے میں سخت شرائط شامل کر کے قانونی کمزوریوں سے بچا جا سکتا تھا۔ تھوڑا صبر، اور تھوڑی سختی، پاکستان کے لیے زیادہ مضبوط ضمانتیں لے سکتی تھی۔

بصیرت بمقابلہ جلد بازی

اسکندر مرزا کو اکثر ایک آمر اور غیر مقبول رہنما کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن سندھ طاس کے تناظر میں وہ ایک ایسے رہنما کے طور پر ابھرتے ہیں جس نے پاکستان کے مفاد کو وقتی مصلحت پر ترجیح دی۔ مرزا اور ایوب کے درمیان اختلاف محض تکنیکی نہیں تھا، بلکہ دو مختلف ملکی نظریاتِ کا تصادم تھا۔ مرزا نے طویل المدتی خودمختاری کو مقدم رکھا، جب کہ ایوب نے جلد کامیابی اور سیاسی استحکام کے لیے سمجھوتہ کر لیا۔ آج، جب پاکستان پانی کی کمی، بھارتی ڈیموں کی تعمیر اور موسمیاتی دباؤ سے دوچار ہے، تو مرزا کے خدشات سچ ثابت ہوتے نظر آتے ہیں۔

اکتوبر 1957 میں ان کے الفاظ آج بھی گونجتے ہیں:
”بھارت کی جانب سے پانی کا بہاؤ روکنے کی کسی بھی کوشش کو جارحیت سمجھا جائے گا، اور پاکستان جارحیت کا جواب جارحیت سے دے گا۔“ یہ الفاظ بے پروائی نہیں بلکہ ذمہ داری کے احساس کا اظہار تھے کہ پاکستان کی بقا اس کے دریاؤں سے جڑی ہے، اور کوئی بھی رہنما انہیں بغیر مزاحمت کے نہیں چھوڑ سکتا۔

یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وجودی معاملات میں جلد بازی مہلک ثابت ہو سکتی ہے، جب کہ دور اندیشی، چاہے تاخیر کی قیمت پر ہو، دراصل قوم کے مفاد میں سب سے بڑا فرض ہے۔

یہ تحریر بلاگر/ مضمون نگار کے خیالات اور رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متّفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سید خاور مہدی
+ posts

اہم ترین

مزید خبریں