منگل, جولائی 21, 2026
اشتہار

پاکستان میں روزانہ 675 نومولود بچے انتقال کرنے لگے، اونچی شرح پر ڈبلیو ایچ او کو تشویش

اشتہار

حیرت انگیز

پاکستان میں روزانہ 675 نومولود بچے انتقال کرنے لگے، شیر خوار بچوں کی اونچی شرح پر ڈبلیو ایچ او نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر 675 نومولود بچے اور پیدائش سے5 سال کی عمر کے ہر ایک ہزار میں سے 56 بچے صحت کے مسائل کا شکار ہو کر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب کہ ملک میں سالانہ 1 لاکھ 90 ہزار سے زائد مردہ بچوں کی پیدائش کا اندراج ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور ماہرین صحت اس صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہیں۔

پاکستان کا شمار ان 3 ممالک میں ہوتا ہے جہاں نومولود سے لے کر پانچ سال تک کے بچوں کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق سالانہ 2 لاکھ 45 ہزار 300 بچے غیر تسلی بخش صحت کے مسائل سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔


شیر خوار بچہ ’ماربرگ وائرس‘ سے چل بسا


نجی اسپتال کی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نولومود بچوں کی اموات کی وجہ ملک میں 90 فی صد تک حاملہ خواتین میں خون کی کمی کی شکایت ہے، جس کی وجہ سے بچے کمزور اور بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی کم قوت مدافعت رکھتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق دیہی اور پس ماندہ علاقوں میں ماوٴں اور بچوں کی صحت کے مراکز کی کمی اور غیر تربیت یافتہ دائیوں کی خدمات ہیں، جو نومولود کی زندگی کو شدید خطرے میں ڈالنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں قائم بنیادی صحت مراکز میں صرف 45 فی صد دائیاں تربیت یافتہ ہے۔

اہم ترین

انور خان
انور خان
انور خان اے آر وائی نیوز کراچی کے لیے صحت، تعلیم اور شہری مسائل پر مبنی خبریں دیتے ہیں

مزید خبریں