The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں مہنگائی کا جن بے قابو، غذائی قلت کا بھی سامنا

امریکا میں بھی مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے اور غذائی قلت کا بحران سر اٹھانے لگا ہے، ایندھن سمیت تمام چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکی عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکا میں بھی مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے اور ملک میں افراط زر اور غذائی قلت کا بحران پیدا ہونے کے باعث غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام کی روزمرہ کی زندگی پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے باعث عوام کی قوت خرید کم ہورہی ہے۔

امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں اپریل 2021 کے مقابلے میں 202 میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں ساڑھے نو فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ گزشتہ 41 برس میں امریکا میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں سالانہ اضافے کی سب سے زیادہ شرح ہے اس کے ساتھ ہی امریکا میں ایندھن اور کرائے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

امریکی معاشی تجزیہ نگار مارک زینڈی کا کہنا ہے کہ امریکا میں ایندھن سمیت تمام چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی بنا پر ایک امریکی خاندان کو گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال 450 ڈالر زیادہ خرچ کرنے پڑ رہے ہیں اور اس کی وجہ افراط زر میں اضافہ ہے۔

واضح رہے کہ پہلے کورونا وبا اور اس کے بعد روس یوکرین جنگ کے باعث مہنگائی کی لہر نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس نے برطانیہ جیسے امیر اور ترقی یافتہ ملک کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

مزید پڑھیں: مہنگائی کی لہر: برطانیہ میں عوام فاقے کرنے پر مجبور

برطانیہ میں عوام کو اپنے اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، یہاں تک کہ برطانیہ میں شہری اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے دن میں ایک وقت کا کھانا کھانے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں