The news is by your side.

Advertisement

جرمنی میں مہنگائی کا نیا ریکارڈ، عوام پریشان

برلن: دنیا بھر میں جاری مہنگائی کی لہر سے جرمنی بھی متاثر ہورہا ہے اور وہاں بھی ہر ماہ مہنگائی کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں، رواں ماہ جرمنی میں مہنگائی چالیس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

دنیا بھر میں مہنگائی نے عوام کا جینا دو بھر کردیا ہے اور دنیا کے بڑے بڑے ممالک بھی اس مسئلہ پر پریشان دکھائی دیتے ہیں، اس صورتحال کا سامنا یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی کو بھی ہے، جہاں گزشتہ روز سامنے والے اعدادو شمار سے پتا چلا ہے کہ جرمنی میں افراطِ زر بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

جرمن ایجنسی ڈیسٹیٹس کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح 7.4 فیصد تک پہنچ گئی ہے، یہ شرح ایسٹ اور ویسٹ جرمنی کے دوبارہ متحد ہونے کے بعد سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، اس سے قبل 1981 کی دوسری سہ ماہی میں سابق مغربی جرمنی میں مہنگائی میں اتنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

جرمن ادارہ شماریات نے مہنگائی میں اضافہ کی بڑی روس- یوکرین جنگ اور کرونا وبا کے باعث عالمی مارکیٹ میں بڑھتی تیل و گیس کی قیمتوں کو قرار دیا ہے، ادارہ شماریات نے مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

ادارے نے کہا کہ ’’خاص طور پر یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے توانائی کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔‘‘

کی شرح ملک کے دوبارہ متحد ہونے کے بعد پہلی بار تیز ترین رفتار سے بڑھی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کی اہم وجہ یوکرین پر روسی حملے کے سبب توانائی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہے۔ تاہم اس کے علاوہ بھی اس کے کئی اہم اسباب ہیں۔

شماریات سے متعلق جرمن ایجنسی ڈیسٹیٹس نے اپنے ابتدائی اعداد و شمار کی بنیاد پر اعلان کیا کہ گزشتہ برس کے اپریل کے مقابلے میں اس وقت صارفین کے لیے عام اشیا کی قیمتیں 7.4 فیصد زیادہ ہیں۔ اس ادارے نے کہا کہ ’’خاص طور پر یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے توانائی کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔‘‘

جرمنی میں آخری بار عام اشیاء کی قیمتوں میں اتنی تیزی سے اضافہ سن 1981 کی دوسری سہ ماہی میں سابق مغربی جرمنی میں ہوا تھا۔ جرمنی کے دوبارہ اتحاد سے نو برس قبل، اس وقت ایران اور عراق جنگ کی وجہ سے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا اور اسی وجہ سے افراط زر کی شرح بھی بڑھ گئی تھی۔

گزشتہ مارچ میں ہی افراط زر کی شرح سات اعشاریہ تین فیصد تک پہنچ گئی تھی اور اب اپریل میں یہ سات اعشاریہ چار فیصد ہو گئی ہے۔

’جرمنی کو روس کی جانب سے ممکنہ گیس کی معطلی کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے، سپلائی کے ممکنہ بند ہونے کے خطرے کے سبب مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

جرمن چانسلر اولاف شولس نے کہا کہ ممکن ہے کہ روس جرمنی کو بھی گیس کی فراہمی معطل کر دے جیسا کہ اس نے پولینڈ اور بلغاریہ کے ساتھ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فی الحال اس پر صرف ’’قیاس آرائیاں‘‘ ہی کی جا سکتی ہیں اور ضروری نہیں کہ یہ قیاس آرائیاں مددگار بھی ثابت ہوں۔ تاہم  وفاقی حکومت کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ جرمنی کو اس منظر نامے کے لیے بھی ’’تیاری‘‘ کرنی ہو گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں