اسلام آباد (02 اکتوبر 2025): پاکستان میں گاؤں شہروں سے مہنگے ہو گئے ہیں، ستمبر میں دیہات میں زیادہ مہنگائی ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ خزانہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے ماہ ستمبر میں محکمہ خزانہ کے تخمینے سے بھی زیادہ مہنگائی ہوئی ہے، محکمے نے ستمبر کے لیے انفلیشن کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فی صد لگایا تھا، لیکن اس بار وزارت خزانہ کا تخمینہ غلط ثابت ہو گیا۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح 5.64 فی صد پر پہنچ گئی ہے۔ جب کہ جولائی سے ستمبر مہنگائی کی شرح 4.22 فی صد رہی۔
سیلاب سے زرعی سپلائی متاثر، خوراک اور ٹرانسپورٹ قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹماٹر 65 فی صد، گندم 37.6 فی صد، آٹا 34.4 فی صد اور پیاز 28.5 فی صد مہنگے ہوئے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیادوں پر اضافہ
آلو، انڈہ، مکھن، چینی، چاول، دالوں کی قیمتیں بھی بڑھیں، مرغی اور ماش دال کی قیمت میں کمی آئی۔ شہری علاقوں میں مہنگائی 5.5 فی صد، جب کہ دیہی علاقوں میں 5.8 فی صد ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود سنگل ڈجٹ میں ہونی چاہیے، بلند شرح سے بجٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
View this post on Instagram
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


