The news is by your side.

Advertisement

مہنگائی کی شرح 68 ماہ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی

اسلام آباد : رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں مہنگائی میں اضافہ کی شرح اڑسٹھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اس سے پہلےنومبر دوہزار تیرہ میں مہنگائی کی شرح اس سےزیادہ تھا۔

تفصیلات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلےماہ جولائی میں افراط زرکی شرح اڑسٹھ ماہ کی بلند ترین سطح دس فیصد سے تجاوز کرگئی ، ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ جولائی میں افراط زر کی شرح دس اعشاریہ تین چارفیصد رہی جو گزشتہ ماہ سے دواعشاریہ تین فیصد زائد ہے۔

ادارہ شماریات کے اعداد وشمار کے مطابق جولائی میں بجلی گیس،گاڑی، سیمنٹ، سی این جی، آٹا، دودھ اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، گیس اکتیس فیصد،آلوسترہ فیصداورکاریں چودہ فیصد مہنگی ہوئیں۔

اعداد وشمار میں کہا گیا سیمنٹ تیرہ اورسریا ساڑھے بارہ فیصد مہنگا ہوا، سی این جی نوفیصد،دال مونگ اورانڈے پانچ فیصد سے زیادہ مہنگے ہوئے۔

مزکری بینک نے رواں مالی سال افراط زرکی شرح بارہ فیصدتک رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا مہنگائی میں اضافہ کو گزشتہ ماہ پیش کی گئی مانیٹری پالیسی میں مد نظر رکھا گیا ہے۔

خیال رہے اس سے پہلےنومبر دوہزار تیرہ میں مہنگائی کی شرح اس سے زیادہ تھی۔

مزید پڑھیں : جولائی کا چوتھا ہفتہ، مہنگائی کی شرح میں 0.18 فیصد اضافہ

یاد رہے جولائی کے چوتھے ہفتے میں مہنگائی کی شرح 0.18 ریکارڈ کی گئی جبکہ کم آمدنی والے طبقے کے لئے قیمتوں کے حساس اشاریئے میں 0.23 فیصد اضافہ ریکار ڈ کیا گیا۔

پاکستان بیور و شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق 25 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران آلو، پیاز، ٹماٹر، گڑ، چنے کی دال، دال مسور، دال ماش، ملک پاؤڈر، لہسن، روٹی سادہ، خوردنی تیل، بیف، مٹن، تازہ دودھ، دھی، چائے، بجلی کا بلب، مسٹرڈ آئل، باسمتی چاول، ویجی ٹیبل گھی، سمیت 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

اسی طرح زندہ مرغی، انڈے، گندم، آٹا، ایل پی جی، چینی، دال مونگ، اری چاول، سرخ مرچ، کیلے سمیت 10 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

ادارہ شماریات کے مطابق پیٹرول، ہائی سپیڈ ڈیزل، مٹی کاتیل، بجلی کے نرخ، گیس نرخ، سگریٹ، نمک، صابن سمیت 24 اشیائے کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں