The news is by your side.

Advertisement

متنازع خبر: تحقیقاتی کمیٹی قائم، 5 افراد کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے قومی سلامتی سے متعلق اہم خبر لیک کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کے لیے آئی ایس آئی، ایم آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی،کمیٹی پانچ افراد کو شامل تفتیش کرکے خبر کے مفادات کا تعین کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق قومی سلامتی سے متعلق اہم اجلاس کی تفصیلات کو منظر عام پر لانے اور حساس نوعیت کی خبر شائع ہونے پر غفلت کے مرتکب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو بر طرف کر کے معاملے کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق انکوائری کمیٹی میں آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو کے افسران شامل ہوں گے جب کہ غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے وفاقی وزیر اطلاعات کو عہدہ چھوڑنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والی خبر قومی سلامتی کے منافی ہے اور اب تک کے دستیاب شواہد کے مطابق وزیر اطلاعات نے اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی برتی۔

اسی سے متعلق : وزیر اطلاعات پرویز رشید وزارت سے برطرف

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیٹی ممکنہ طور پر پہلے مرحلے میں پانچ افراد سے تفتیش کرے گی،ان پانچ افراد میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد، سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری، چیئرمین پیمرا ابصار عالم، صوبائی وزیر قانون ثناء اللہ اور وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز رشید کی برطرفی کا فیصلہ گزشتہ روز آرمی چیف سے کی گئی ملاقات میں کیا گیا،اس ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف،وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت ایک اور اہم حکومتی رکن شامل تھے۔

خیال رہے کہ وزارت کا عہدہ واپس لینے کے بعد وفاقی پرویز رشید کو حاصل استثنیٰ ختم ہوگیا ہے اور اب ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاسکے گی۔

واضح رہے کہ تحقیقاتی کمیٹی اس بات کا اختیار رکھتی ہے کہ تحقیقات کے لیے کسی کو بھی شخص کو طلب کرسکتی اس حوالے سے مذکورہ پانچ اہم سرکاری شخصیات کے علاوہ تحقیقاتی کمیٹی آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کو بھی بلا سکتی ہے۔

اس حوالے سے وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک نے کہا ہے کہ خبر لیک کرنے کے ذمہ دار پرویز رشید ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں