The news is by your side.

Advertisement

پاکپتن اراضی اسکینڈل، نوازشریف سے جیل میں تفتیش کی اندرونی کہانی

لاہور : پاکپتن اراضی کیس اینٹی کرپشن کی نوازشریف سے تفتیش کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ، نوازشریف نے تحقیقاتی ٹیم کو جواب میں کہا کیس بہت پرانا ہے کچھ یاد نہیں، قانونی ٹیم سےمشاورت کرنے کے بعد ہی جواب دے سکتا ہوں۔

تفصیلات کے مطابق پاکپتن اراضی اسکینڈل میں سابق وزیراعظم نوازشریف سے اینٹی کرپشن کی تفتیش کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ، اینٹی کرپشن ٹیم نے نواز شریف سے سوال کیا آپ نے ملک وقوم کو نقصان پہنچایا، آپ نے 24گھنٹےمیں سیکرٹری کواراضی الاٹ کرنےکاحکم دیا۔

اینٹی کرپشن ٹیم کا کہنا تھاکہ اوقاف کی زمین کامعاملہ عدالت میں بھی زیرسماعت تھا، آپ نے سیکریٹری پر دباؤ ڈالا کہ وہ فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری کریں۔

اینٹی کرپشن حکام نے نواز شریف سے کہا سیکریٹری سمیت دیگر افسران نے تفتیش میں بتایاکہ ہم پر دباؤ ڈالاگیا، نوازشریف نے تحقیقاتی ٹیم کو جواب میں کہا کچھ یاد نہیں پرانی بات ہے، قانونی ٹیم سے مشاورت کرنے کے بعد ہی جواب دے سکتاہوں۔

نوازشریف کا کہنا تھا کیس بہت پرانا ہے کچھ یاد نہیں، جس پر اینٹی کرپشن تحقیقاتی ٹیم نے کہا آپ کو یاد آ جائےگا اہم شواہد آپ کے سامنے ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم نے مزید نواز شریف سے پوچھا آپ سے 8 سے 10 سوالات کیے لیکن کوئی جواب تسلی بخش نہیں، تو نواز شریف کا کہنا تھا مجھے سوالنامہ دیں قانونی ٹیم سےمشاورت کے بعد جواب دوں گا۔

اینٹی کرپشن ٹیم نے نوازشریف کو بتایا اب تک کی تفتیش میں آپ قصور وار ثابت ہورہے ہیں۔

یاد رہے پاکپتن اراضی الاٹمنٹ کی تحقیقات کے لئے محکمہ اینٹی کرپشن کی چار رکنی ٹیم ڈائریکٹر ساہیوال شفقت اللہ کی سربراہی میں کوٹ لکھپت جیل پہنچی، ٹیم نے سپرنٹنڈنٹ جیل کے کمرے میں نواز شریف سے ڈیڑھ گھنٹے تک تفتیش کی۔

مزید پڑھیں : پاکپتن اراضی کیس : اینٹی کرپشن ٹیم نے نوازشریف کا بیان قلمبند کر لیا

ٹیم نے نواز شریف سے پاکپتن میں آٹھ ہزار کینال اراضی کے حوالے سے سوالات کئے اور نوازشریف کا بیان بھی قلمبند کیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ تفتیشی ٹیم نے نوازشریف کے سامنے ایک سوالنامہ رکھا، جس میں 15 سوالات تھے جبکہ ٹیم نے ابتدائی تفتیش ختم ہونے کے بعد رپورٹ پر نوازشریف کے دستخط بھی کروائے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم تفتیش کی ابتدائی رپورٹ ڈی جی اینٹی کرپشن اعجاز حیسن شاہ کو پیش کرے گی اور وزیراعظم کو بھی اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں