The news is by your side.

Advertisement

تحریک عدم اعتماد، ن لیگ کے دو گروپ کھل کر سامنے آگئے

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف ووٹ دینے کے معاملے پر اپوزیشن کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں مسلم لیگ ن کے دو گروپ کھل کر سامنے آگئے ہیں، ن لیگ کا ایک دھڑا حاصل بزنجو کی حمایت میں نہیں تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے کئی سینیٹرز پارٹی قیادت سے نالاں تھے، اپوزیشن سے منحرف ارکان ایک دوسرے سے رابطوں میں تھے۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز زاہد مشوانی کے مطابق اپوزیشن کے اجلاسوں میں بھی اپنے سینیٹرز پر شک کیا جاتا رہا اور پیپلزپارٹی کے بعض سینیٹرز نے بھی ووٹ پول کیا۔

اپوزیشن کے بعض سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف ہونے والی ووٹنگ میں جان بوجھ کر اپنے ووٹ ضائع کیے۔

مزید پڑھیں: چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام

تحریک عدم اعتماد میں ناکامی پر پیپلزپارٹی کے سینیٹرز نے اپنے استعفے پارٹی قیادت کو بھیج دئیے ہیں، پیپلزپارٹی سینیٹرز کے استعفے بلاول بھٹو کو موصول ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تھی جس کی 64 اراکین نے حمایت کی تھی البتہ جب خفیہ رائے شماری ہوئی تو قرارداد کے حق میں صرف پچاس ووٹ پڑے، مطلوبہ تعداد کا ایک چوتھائی ووٹ نہ ملنے کے سبب قرار داد مسترد کردی گئی۔

اس سے قبل سینیٹ کے 64 ارکان کی حمایت کے سبب تحریک عدم اعتماد منظور ہوگئی تھی تاہم خفیہ رائے شماری میں صادق سنجرانی فتح یاب قرار پائے ساتھ ہی ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف بھی حکومت کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں