The news is by your side.

Advertisement

ہائی پروفائل ملزمان بیرون ملک چلے جاتے ہیں، رینجرز پراسیکیوٹر

کراچی : سندھ رینجرز کے پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ نے کہا ہے کہ گرفتارہائی پروفائل ملزمان قانونی ہتھکنڈےاستعمال کرتے ہیں اور تحقیقات کا سامنا کرنے کے بجائے ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ 

رینجرزپراسکیوٹرساجد محبوب شیخ  اے آر وائی نیوزسے گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ ہائی پروفائل ملزمان قانونی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں اورکوئی علاج کا بہانہ بنا کرتوکوئی مذہبی فریضہ کی ادائیگی کی درخواست دائر کردیتا ہے اور ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کو علاج معالجے کی فراہمی کے مقدمے میں ملوث ڈاکٹرعاصم حسین کے بعد اب پاسبان کے رہنما عثمان معظم کوبھی باہر جانے کی این اوسی جاری کردیا گیا ہے وہ فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب چلے جائیں گے۔

رینجرزپراسکیوٹرکا کہنا تھا کہ رینجرز ملزمان کو گرفتار کرکے ثبوت اکھٹے کرتے ہیں اورعدالتوں میں بھی گواہ اور شواہد بھی پیش کرتے ہیں لیکن ملزمان قانونی ہتھکنڈے استعمال کرکے مقدمے سے فرار کی کوششیں کرتے ہیں جس کی مثال ڈاکٹر عاصم حسین کیس ہے۔


اسی سے متعلق : ڈاکٹر عاصم اور عثمان معظم کو بیرون ملک جانے کی اجازت 


انہوں نے کہا کہ ملزمان کو ضمانت دیتےوقت 2 ماہ میں کیس کا فیصلہ سنانےکا کہا گیا تھا لیکن یہ ممکن ہوتا نظر نہیں آرہا ہے کیوں کہ ڈاکٹر عاصم کے بعد عثمان معظم کو بھی بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی ہے تو اس طرح مقدمے کا فیصلہ دو ماہ میں کیسے آ سکے گا؟

رینجرز پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہم نے آج عدالت میں ڈاکٹرعاصم کو 462 ارب روپے کی بھاری ضمانت ادا کرنے کا کہا اور موقف اختیار کیا کہ اگرڈاکٹرعاصم باہرچلے جائیں گے تو وہ واپس نہیں آئیں گے تاہم ڈاکٹرعاصم نےناظم آباد میں اسپتال ضمانت کے طورپیش کیا۔

رینجرزپراسکیوٹرساجد محبوب شیخ نے کہا کہ ماضی میں بھی جب کیس شروع ہونےلگتاتھاتوملزمان باہرچلےجاتے اور آج بھی ملزمان گواہوں کا سامنا کرنے سے پس وپیش سے کام لیتے ہوئے بیرون ملک فرار ہونے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔

واضح رہے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے دہشت گردوں کو علاج معالجے کی سہولیات مہیا کرنے کے مقدمے میں ڈاکٹر عاصم حسین اور عثمان معظم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی ہے جس پر رینجرز پراسیکیوٹر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں