The news is by your side.

Advertisement

سکھ برادری کی توہین کنگنا کو مہنگی پڑگئی، سکھوں کا اداکارہ کو پاگل خانے بھیجنے کا مطالبہ

نئی دہلی : بھارت کی سکھ برادری نے متنازعہ بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت کو پاگل خانے بھجوانے کا مطالبہ کردیا۔

بھارت کی مشہور اداکارہ کنگنا رناوت کی جانب سے متنازع بیانات کا سلسلہ گزشتہ کچھ ماہ سے مسلسل جاری ہے کہ ایک مرتبہ پھر بالی ووڈ اداکارہ نے متنازع بیان داغ دیا ہے جس پر بھارت کی سکھ برادری میں شدید غم و غصّہ پایا جارہا ہے۔

کنگنا رناوت نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں ملک کو انتشار کی آگ میں پھیلنے کی وجہ بننے والے بیان میں کہا کہ ’خالصتانی دہشت گرد آج حکومت کے بازو مروڑ رہے ہیں لیکن اُس ایک خاتون وزیراعظم کو نہ بھولیں جس نے انہیں جوتے تلے کچل دیا تھا، اُنہوں نے اس کمیونٹی کو کتنی ہی تکلیفیں پہنچائیں، اُنہوں نے اپنی جان کی قیمت پر انہیں مچھروں کی طرح کچل دیا لیکن قوم کو تقسیم نہیں ہونے دیا۔‘

اداکار کے اس بیان پر بھارت کی سیاسی پارٹی شرومانی اکالی دل کے رہنما اور دہلی سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر منجندر سنگھ سرسا نے شدید عمل کا اظہار کرتے ہوئے کنگنا رناوت کے خلاف مقدمہ درج کروایا اور انہیں پاگل خانے منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔

سکھ رہنما نے کہا کہ کنگنا نے کسان تحریک کو خالصتانی دہشت گرد کہہ کر سکھ برادری کی سخت توہین کی ہے لہذا اداکارہ کو جیل میں بند کیا جائے یا پھر پاگلوں کے اسپتال میں بھیجا جائے۔

کنگنا رناوت نے 1947 کی آزادی کو ‘بھیک’ قرار دے دیا

واضح رہے کہ کنگنا رناوت کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے۔ جس میں اداکارہ کہتی ہوئی نظر آرہی ہیں کہ 1947 میں جو آزادی ہمیں ملی تھی وہ بھیک جیسی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اصل میں آزادی 2014 میں ملی۔ کنگنا کے اس بیان پر لوگ حیران ہیں اور انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں