The news is by your side.

Advertisement

انتظارقتل کیس: عدالتی تحقیقات کیلئے حکومت کا سندھ ہائیکورٹ کو خط

کراچی : صوبائی حکومت نے سندھ ہائیکورٹ سے درخواست کی ہے کہ انتظار احمد قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا جائے، جوڈیشل انکوائری کیلئے خط مقتول انتظار احمد کے والد کی درخواست پر بھیجا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈیفنس میں گزشتہ دنوں اے سی ایل سی اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نوجوان انتظاراحمد کا معاملہ پیچیدہ صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں مقدمے کی عدالتی تحقیقات کیلئے سندھ حکومت نے سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا ہے، جوڈیشل انکوائری کیلئے مذکورہ خط وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر محکمہ داخلہ نے تحریر کیا۔

مذکورہ خط سیکریٹری محکمہ داخلہ قاضی شاہد پرویز نے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو ارسال کیا ہے، خط میں سندھ ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ انتظار احمد قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیں۔

کسی بھی حاضر سروس جج سے انکوائری کرائی جائے، جوڈیشل انکوائری کیلئے خط مقتول انتظار احمد کے والد کی درخواست پر بھیجا گیا ہے۔

گاڑی پر فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کا تعین ہوگیا 

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فائرنگ کرنے والےاہلکاروں کا تعین ہوگیا ہے، تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ جن اہلکاروں نے گاڑی پر فائرنگ کی ان کا آپریشن ٹیم سے تعلق نہیں تھا، ان اہلکاروں نے سب سے آخر میں گرفتاری دی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ انتظار احمد کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والوں میں ایس ایس پی کا گارڈ اور ڈرائیور شامل تھے، جن کے نام دانیال اور بلال ہیں، دونوں اہلکاروں نے گھبراہٹ میں اچانک فائرنگ کی۔

تفتیش میں گڑبڑ یا پیچھے کہانی ہی کچھ اور؟

واضح رہے کہ ڈیفنس میں ہونے والے نوجوان انتظاراحمد کا قتل معمہ کی صورت اختیار کرگیا ہے، تفتیش میں گڑبڑ ہے یا پردے کے پیچھے کہانی ہی کچھ اور ہے؟ کیس میں کی جانے والی تفتیش نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

اوّل یہ کہ تفتیش میں اب تک گاڑی سے اتر بھاگنے والی لڑکی مدیحہ کا کوئی ذکر کیوں نہیں کیا گیا ؟ کیا اس کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا؟ درجنوں گولیاں گاڑی پر لگیں لیکن لڑکی کو خراش تک کیوں نہ آئی؟

مدیحہ نامی لڑکی وہ واحد عینی شاہد ہے جو قتل کے وقت انتظار احمد کے ساتھ تھی، اس کے بیان میں اتنی ڈھیل کیوں؟ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج اب تک منظرعام پر کیوں نہیں لائی جارہی ؟ اور فوٹیج کواب تک میڈیا سے شئیر کیوں نہیں کیا گیا ؟

واقعے کے فوری بعد پولیس حکام نے یہ کیوں کہہ دیا کہ انتظار احمد اے سی ایل سی کے اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا؟ اے سی ایل سی کے اہلکار سادہ لباس میں کیوں تھے؟


مزید پڑھیں: ڈیفنس میں فائرنگ، نوجوان ہلاک، گاڑی میں موجود لڑکی کابیان قلمبند


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر ضرور شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں