The news is by your side.

Advertisement

کورونا قومی سلامتی کا مسئلہ بن گیا، حساس اداروں کی ہیلتھ ایڈوائزری تیار

اسلام آباد: کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر حساس اداروں کی جانب سے تیار کردہ ہیلتھ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر کورونا وائرس کی دوسری لہر پہلے سے زیادہ شدید ہے، ملک میں کورونا کیسز کی تعداد میں 400 فیصد اضافہ ہوگیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے تیار کردہ ہیلتھ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کورونا کے یومیہ کیسز 500 سے بڑھ کر 2 ہزار تک پہنچ گئے ہیں، موسم سرما کی آمد کے پیش نظر کورونا سے بچنے کے خصوصی اقدامات ناگزیر ہیں۔

انٹیلی جنس ہیلتھ ایڈوائزری میں کورونا سے بچاؤ کے خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جس کے مطابق معاشی سرگرمیاں روکنے اور لاک ڈاؤن کے بغیر اقدامات کرنا ہوں گے، ملک بھر میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی ہونی چاہئے۔

ہیلتھ ایڈوائزری میں سیاسی مذہبی سرگرمیوں، شادی ہالز، اسکول، مدارس بند کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ سنیما، تھیٹرز، تفریح گاہیں، مزار بند کیے جائیں۔

انٹیلی جنس ہیلتھ ایڈوائزری کے مطابق بازاروں میں ایس او پیز پر عمل کرایا جائے، ایس او پیز پر عمل نہ کرنے پر سول انتظامیہ بھاری جرمانے عائد کرے، کورونا ٹیسٹ کا عمل وسیع کیا جائے اور ہاٹ اسپاٹس علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔

ہیلتھ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مقامی طور پر ٹیسٹنگ کٹس کی دستیابی یقینی بنائیں، کورونا کے خلاف اسپتالوں کی استعداد کار بڑھائی جائے، کورونا بچاؤ کی ویکسین کی جلد دستیابی یقینی بنائی جائے۔

ایڈوائزری کے مطابق فائزر، کنسائینوویکسین کے ٹرائلز فاسٹ ٹریک پر کیے جائیں، ویکسین کے ٹرائل کے لیے رضاکاروں کی خدمات یقینی بنائی جائیں، انتہائی کمزور گروپس میں فائزر، کنسائینو ویکسین کے استعمال کی اجازت دی جائے۔

کورونا سے بچاؤ کے آلات اور ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، ملک میں کورونا سے بچاؤ کے آلات، دواؤں کی قیمتیں کنٹرول رکھی جائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں