The news is by your side.

Advertisement

انتہائی ذہین مچھلی : جس کی ویڈیو دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے

پیرس : سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں کے بعد ڈولفن وہ جاندار ہے جس کی یادداشت سب سے طویل ہوتی ہے۔ اس سے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ لمبی یادداشت رکھنے والا جانور ہاتھی ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور ایسی مچھلی بھی ہے جس کی یادداشت اتنی زبردست ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک اس کو اپنے ساتھ گزرے ہوئے تمام واقعات مکمل طور پر ذہن نشین رہتے ہیں۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان کی یادداشت بھی کمزور ہوجاتی ہے لیکن ’’کٹل فش‘‘ کہلانے والی ایک مچھلی اپنی زندگی کے تمام واقعات کو مرتے دم تک مکمل طور پر یاد رکھتی ہے۔

تین ممالک کے ماہرین نے یہ مشترکہ تحقیق عام کٹل فش (Sepia officinalis) پر کی ہے۔ (فوٹو: وکی پیڈیا)

یہ دریافت خود سائنسدانوں کےلیے حیرت انگیز ہے کیونکہ کٹل فش کا شمار چھوٹی مچھلیوں میں ہوتا ہے جن کی عمر ایک سے دو سال تک جبکہ عمومی جسامت صرف 6 سے 10 انچ ہوتی ہے، کٹل فش کی سب سے بڑی انواع بھی محض20 انچ لمبی ہوتی ہیں۔

کٹل فش کی اچھی یادداشت کے بارے میں ماہرین برسوں سے جانتے ہیں لیکن 24 کٹل مچھلیوں پر کی گئی اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اس چھوٹی سی مچھلی کی یادداشت حیرت انگیز طور پر بے حد مضبوط اور پائیدار ہے۔

امریکی، برطانوی اور فرانسیسی ماہرین نے یہ مشترکہ تحقیق عام کٹل فش (سیپیا آفسی نالیس) پر کی ہے جس کے نتائج ’’پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی/ بایولاجیکل سائنسز‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔

اس تحقیق میں استعمال کی گئی آدھی کٹل مچھلیاں 10 سے 12 ماہ کی (تقریباً ادھیڑ عمر) جبکہ باقی نصف کٹل مچھلیاں 24 ماہ عمر والی (یعنی اچھی خاصی بوڑھی) تھیں۔

U.S. Marine Biologists Reveal Secrets of Cuttlefish | Sci-News.com

ان تمام مچھلیوں کو غذا تلاش کرنے اور غذا کی دستیابی سے متعلق معلومات یاد رکھنے کے بارے میں مختلف تجربات سے گزار کر ان کی ’’واقعاتی نما یادداشت‘‘ جانچی گئی۔

واضح رہے کہ انسانوں میں “واقعاتی یادداشت” (ایپیسوڈِک میموری) سے مراد ماضی کے واقعات سے متعلق یہ یاد رہنا ہے کہ وہ کیا تھے، کہاں ہوئے تھے اور کب ہوئے تھے۔

مچھلیوں سمیت دوسرے جانوروں میں تقریباً ایسی ہی صلاحیت کو “واقعاتی نما یادداشت” (ایپیسوڈِک لائک میموری) کہا جاتا ہے۔ ان تجربات کے پہلے مرحلے میں ان مچھلیوں کو دو طرح کی غذائیں تلاش کرنے کی تربیت دی گئی۔

The memory of a cuttlefish won't fade through its entire life

ان میں سے ایک “گراس شریمپ” (چھوٹی جسامت والا، جھینگے جیسا سمندری جانور) تھا جو کٹل مچھلیوں کی پسندیدہ غذا ہے جبکہ دوسرا “کنگ پران” تھا، جو بڑی جسامت والا جھینگا ہوتا ہے اور جسے کٹل مچھلیاں بہت کم کھاتی ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ہر عمر کی کٹل مچھلیوں نے نہ صرف غذا تک پہنچنے کا راستہ اور طریقہ بہت جلد یاد کرلیے تھے بلکہ خاصا وقت گزرنے کے بعد جب انہیں دوبارہ ان ہی تجربات سے گزارا تو انہیں اپنا سابقہ تجربہ بہت اچھی طرح یاد تھا۔

یہ بات زیادہ حیرت انگیز تھی “بوڑھی” کٹل مچھلیوں کی یادداشت، نوجوان کٹل مچھلیوں سے بھی کچھ بہتر  دیکھی گئی۔ یادداشت کی تشکیل اور حفاظت میں دماغ کا ایک حصہ “ہپوکیمپس” بہت اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن کٹل مچھلیوں میں یہ حصہ بھی موجود نہیں ہوتا۔

اس کے باوجود، یہ معمولی سی مچھلیاں اپنے واقعات کو ساری زندگی یاد رکھتی ہیں؛ اور یہ یادداشت ان کے مرنے سے صرف دو یا تین دن پہلے ہی کمزور پڑتی ہے۔

کٹل فش کی زبردست اور آخری عمر تک مضبوط یادداشت کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اپنی عمر کے آخری مہینوں میں نسل خیزی کے لیے ملاپ کرتی ہیں؛ اور شاید یہی ان کی یادداشت کا راز بھی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں