ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

بین الصوبائی بار کونسل نے ججز کی حمایت میں ہڑتال پر پابندی کا اعلان کر دیا

اشتہار

حیرت انگیز

پشاور (03 مئی 2026): بین الصوبائی بار کونسل نے اجلاس میں ججز کی حمایت میں ہڑتال پر پابندی کا اعلان کر دیا۔

اجلاس میں خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ، بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین شریک ہوئے، چیئرمین بین الصوبائی بار کونسلز احمد فاروق خٹک ایڈووکیٹ نے پریس کانفرنس کی۔

چیئرمین فاروق خٹک نے کہا آج ملک کے تمام بار کونسلز کے چیئرمین یہاں پر موجود ہیں، ہم ججز کی حمایت میں ہڑتال پر پابندی کا اعلان کرتے ہیں، کسی بھی بار ایسوسی ایشن نے ججز کی حمایت میں ہڑتال کی تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

احمد فاروق خٹک نے کہا جو بھی فیصلہ ہوگا، پورے پاکستان کے بار کونسل ایک پیچ پر ہوں گے، غیر آئینی، غیر قانونی کسی اقدام کی حمایت نہیں کی جائے گی، ججز کا ایک ہائیکورٹ سے دوسرے ہائیکورٹ ٹرانسفر بری بات نہیں ہے، لیکن ہائیکورٹ سے ججز کا تبادلہ سیاسی اور سزا کے طور پر نہ کیا جائے۔

پنجاب کے ایک اور شہر کیلیے ماس ٹرانزٹ سسٹم، لاکھوں شہری مستفید ہونگے

چیئرمین نے مؤقف پیش کیا کہ ججز ٹرانسفر کے معاملے پر متعلقہ بار کونسل کے نمائندے کو بھی شامل کرنا چاہیے، اسلام آباد ہائیکورٹ سے اگر کسی جج کو ٹرانسفر کیا جاتا ہے تو اسی صوبے سے دوسرے جج کا اسلام آباد ٹرانسفر کیا جانا چاہیے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں تمام صوبوں کا برابر کا حصہ ہونا چاہیے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ریٹائرڈ ججز کو دوبارہ کسی عہدے پر تعینات نہ کیا جائے، اور کہا کہ ہم ججز کے وکلا کے ساتھ رویے اور بار کونسل انتخابات میں مداخلت کی مذمت کرتے ہیں، اور مطالبہ کرتے ہیں کہ وکلا کے لائسنس معطل کرنے کا اختیار عدالت سے واپس لے کر بار کونسل کو دیا جائے۔

فاروق خٹک نے کہا سول جج کے لیے 2 سال وکالت کا تجربہ لازمی ہونا چاہیے، جج کا احتساب ہونا چاہیے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ججز احتساب کی جو کمیٹی ہے اس میں بار کونسل کو بھی نمائندگی دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ ججز کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے لیکن پھر یہ نہیں بتایا جاتا کہ کس بنیاد پر ان کو نکالا گیا۔

اہم ترین

مزید خبریں