ملک کی سب سے بڑی عدالت کو فیصلہ دینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا: احسن اقبال
The news is by your side.

Advertisement

عدلیہ کو فیصلے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ سینیٹ انتخابات پر اس کا کیا اثر پڑے گا: احسن اقبال

اسلام آباد: وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایک فرد کے خلاف فیصلہ دینے کے ساتھ سیاسی جماعت کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی، ملک کی سب سے بڑی عدالت کو فیصلہ دینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ سینیٹ انتخابات پر کیا اثر پڑے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے فیصلے سے (ن) لیگ کو سیاسی نقصان پہنچایا گیا، پارٹی کو سینیٹ انتخابات سے محروم رکھ کر آئین کی خلاف ورزی کی گئی۔

ہمارے خلاف فیصلوں سے (ن) لیگ کا سیاسی گراف بڑھ رہا ہے، احسن اقبال

انہوں نے کہاکہ کچھ حلقوں نے سینیٹ الیکشن کے بارے میں ابہام پیدا کر رکھا تھا، چند سیاست دانوں کی تھیوریاں ایک ایک کر کے ناکام ہو رہی ہیں، اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے عوام کا شعور اب بالغ ہوچکا ہے، ایک ریڑھی والا بھی سیاسی معاملات پر اتنا علم رکھتا ہے جتنا کوئی دانشور۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے تمام فیصلوں کو کالعدم کیا گیا، انہیں بطور پارٹی صدر کام کرنے سے بھی روک دیا، ایک شخص کے خلاف فیصلہ دے کر (ن) لیگ کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ملک کے عوام کا شعور اب بالغ ہوچکا ہے،آج پاکستانی عدلیہ پر عالمی میڈیا جو کچھ لکھ رہا ہے اس پر دل خون کے آنسوں روتا ہے۔

سی پیک پراجیکٹس پرکام کرنے والے چینی ہمارے مہمان ہیں‘ احسن اقبال

احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ ڈوگر صاحب کے خلاف پہلے فیصلہ آیا بعد ازاں ان کے فیصلوں کو تحفظ دیا گیا، کیا فیصلہ کاغذات نامزدگی سے ایک دن پہلے نہیں کیا جاسکتا تھا؟


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانےکے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں