The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست وزارت داخلہ کو موصول

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست وزارت داخلہ کو موصول ہوگئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ درخواست بیماری اوربیرون ملک علاج کرانے کی بنیاد پر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ذرائع وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست وزارت داخلہ کو موصول ہوگئی ہے ، درخواست نواز شریف کی فیملی کی جانب سے دی گئی، شریف فیملی کی درخواست سیکریٹری داخلہ کو موصول ہوئی۔

ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق درخواست بیماری اوربیرون ملک علاج کرانے کی بنیاد پر دی گئی ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف بیرون ملک علاج کے لئے جانا چاہتے ہیں۔

اس سے قبل شریف خاندان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیرون ملک علاج پر مشاورت مکمل کرلی تھی ، ذرائع کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو غیر ملکی ڈاکٹرز کے مشورے پر بیرون ملک بھیجنے کا امکان ہے، شہباز شریف کی نواز شریف کے علاج کے لئے غیر ملکی ڈاکٹرز سے مشاورت جاری ہے ، جس کے بعد شہباز شریف حکومت کو غیر ملکی ڈاکٹرز کے مشورے سے بھی آگاہ کریں گے۔

مزید پڑھیں : نواز شریف کا آئندہ ہفتے تک بیرون ملک جانے کا امکان ، ذرائع ن لیگ

خیال رہے ایک اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کیلئے باہر جانے پر رضا مند ہوگئے ہیں ، رپورٹ کے مطابق ن لیگ نے حکومت سے ڈاکٹروں کی تجاویز پرمبنی رپورٹ بھی شیئر کی ہے، اس رپورٹ کی روشنی میں حکومت نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کرسکتی ہے۔

اخبار کے مطابق ای سی ایل سے نام خارج ہونے کی صورت میں نواز شریف اس ہفتے لندن روانہ ہوسکتے ہیں تاہم مریم نواز بیرون ملک نہیں جائیں گی۔

مزید پڑھیں : نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کیلئے حکومت کو درخواست دینے پر غور

یاد رہے کہا جارہا تھا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے لئے حکومت کو درخواست دینے پر غور کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں شہباز شریف کے وکلا سے مشورے جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے پلیٹیلٹس کا مستحکم نہ ہونا تشویشناک ہے، ڈاکٹر عدنان لندن میں نواز شریف کے معالج سے رابطہ کریں گے، غیر ملکی ڈاکٹرز کی رائے اور مشاورت کی فائل تیار کی جارہی ہے، ضرورت پڑنے پر غیر ملکی ڈاکٹرز کی تجاویز پر مبنی فائل قانونی فورم پر استعمال کی جائے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں