The news is by your side.

Advertisement

کالعدم تنظیموں کےخلاف کریک ڈاؤن، 121ا فرادکو حفاظتی تحویل لے لیاگیا

اسلام آباد : وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کےتحت کالعدم تنظیموں کےخلاف کریک ڈاؤن میں اب تک ایک سو21افرادکوحفاظتی تحویل میں لےلیاگیا ہے جبکہ ایک سو بیاسی مدارس اورچونتیس اسکول و کالج کا کنٹرول بھی حکومت نے حاصل کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کےتحت کالعدم تنظیموں کےخلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے، وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کریک ڈاؤن میں ملک بھر سے اب تک ایک سو21افرادکوحفاظتی تحویل میں لے لیاگیا ہے ۔

صوبائی حکومتوں  کی جانب سے ایک سو بیاسی مدارس، چونتیس اسکول و کالجز کا کنٹرول سنبھال لیا گیا جبکہ پانچ اسپتال، ایک سو تریسٹھ ڈسپنسری، ایک سو چوراسی ایمبولینس اور آٹھ دفتر بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے صوبے کے چھپن مدارس اور اسکول تحویل میں لے لیے، مدارس اور اسکول فلاحی انسانیت فاونڈیشن اور جماعتہ الداعوة کے زیرانتظام تھے ، اسکولوں ومدارس کو محکمہ اوقاف کی چھ رکنی کمیٹی کے تحویل میں دیا گیا ہے۔

ترجمان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیموں کےخلاف آپریشن جاری رہےگا، صوبوں کےساتھ وزارت داخلہ ملکرکام کررہی ہے۔

گذشتہ روز وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے کالعدم تنظیموں کے زیر انتظام مساجد و مدارس کا کنٹرول سنبھالا تھا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد افراد کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔

مزید پڑھیں : حکومت نے کالعدم تنظیموں کے زیر انتظام مساجد و مدارس کا کنٹرول سنبھال لیا

جن مساجد اور مدارس کا کنٹرول سنبھالا گیا ، ان میں مسجد قبا، مدنی مسجد، علی اصغر مسجد، مدرسہ خالد بن ولی اور مدرسہ ضیاء القرآن شامل تھیں جبکہ محکمہ اوقاف نے مساجد کے نئے امام اور خطیب مقرر کردیے تھے۔

اس سے قبل وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہناتھا کہ نیشنل ایکشن پلان2014کے مطابق آپریشن جاری رہےگا، کالعدم تنظیموں کیخلاف آپریشن مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا، نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد میں تیزی کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

ایک روز قبل  وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور سیکریٹری داخلہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاتھا کہ وزارتِ داخلہ نے کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن کا آغاز کر دیا ہے، کالعدم تنظیموں کے 44 ارکان حراست میں لیے لیا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں