The news is by your side.

Advertisement

کورونا سے زیادہ بھوک کا خطرہ، وزیراعظم کے مؤقف کی عالمی سطح پر پذیرائی

اسلام آباد : عالمی ادارہ آکسفیم نے وزیراعظم عمران خان کے مؤقف کو تسلیم کرلیا اوروبا کے دوران بھوک سے متاثرہ ممالک کی فہرست جاری کر دی، تاہم عمران خان  کے بر وقت اقدامات سے پاکستان کانام متاثرہ فہرست میں نہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مؤقف کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی مل گئی ، وزیراعظم نے کورونا کے آغاز پر ہی دنیا کو بھوک اور بیروزگاری کےخطرے سے خبردار کیا تھا۔

عالمی ادارہ آکسفیم نے خدشہ ظاہر کیا کہ کوروناصورتحال میں لوگ بھوک سےزیادہ مرسکتے ہیں اور وبا کے دوران بھوک سے متاثرہ ممالک کی فہرست جاری کر دی، جس میں بھارت “ایمرجنگ ہنگرہاٹ اسپاٹ” کے طور پر فہرست میں شامل تاہم وزیراعظم کے بر وقت اقدامات سے پاکستان کانام متاثرہ فہرست میں نہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے عالمی ادارے کی ریسرچ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا وزیراعظم وہ پہلے شخص تھےجنہوں نےواضح اور دو ٹوک مؤقف اپنایا ، وزیراعظم نے پہلے دن ہی کہا تھا لوگوں کو وبا کیساتھ بھوک سے بچانا ہے۔

مزید پڑھیں : کرونا وائرس سے زیادہ بھوک سے اموات ہوسکتی ہیں

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ آکسفیم مطالعے کے مطابق پاکستان کو بدترین بھوک کے بحران سے بچالیا گیا، بروقت بہترین حکمت عملی پرہم وزیراعظم کے شکر گزار ہیں۔

یاد رہے برطانیہ میں قائم امدادی ادارے آکسفیم نے متنبہ کیا تھا کہ عالمی سطح پر کرونا وائرس سے اتنی اموات نہیں ہوں گی جتنی بھوک کی وجہ سے ہو سکتی ہیں اور کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حات کے باعث بھوک سے ہر روز 12 ہزار افراد مرسکتے ہیں۔

عالمی تنظیم اوکسفیم کا کہنا تھا کہ کورونا کے باعث امداد میں کمی، بڑے پیمانے پربیروزگاری اورغذائی اجناس کی پیدوار اورسپلائی متاثرہونے سے رواں سال بارہ کروڑبیس لاکھ افراد قحط کا شکار ہوسکتے ہیں، حکومتیں اقوام متحدہ کے کووڈ نائنٹین فنڈ میں عطیہ دے کراورعالمی تنازعات روک کرلوگوں کی زندگیاں بچا سکتی ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں