The news is by your side.

Advertisement

آسمان سے نازل ہونے والے’سیارچوں‘ کا عالمی دن

آج دنیا بھر میں سیارچوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد اس کرہ ارض کے مکینوں کو آسمان سے گرنے والے شہابِ ثاقب اور سیارچوں سے پھیلنے والی تباہی سے بچنے کے لیے تیار کرنا ہے، یاد رہے کہ زمین ماضی میں ایک سیارچے کے ٹکرانے سے اپنی 75 فیصد حیات سے محروم ہوچکی ہے۔

سیارچوں کاعالمی دن منانے کا آغاز آج سے چار سال قبل یعنی 30 جون 2014 میں کیا گیا۔خلائی تحقیقات کرنے والے اداروں اور اقوام متحدہ کے توسط سے اب ہر سال 30 جون کو یہ دن منا یا جاتا ہے اور آج دنیا بھر میں پانچواں عالمی یوم سیارچہ منایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے امریکا سے لے کر برطانیہ اور جرمنی سے لے کر آسٹریلیا تک مختلف سیمینارز اور سائنسی پروگرامات کا اہتمام کیا گیا ہے تاہم پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اس حوالے سے انتہائی محدود پیمانے پر سرگرمیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔

30 جون کو عالمی یوم سیارچہ منانے کا اولین مقصد یہ ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے افراد میں آسمان سے نازل ہونے والے ان سیارچوں کی ہلاکت خیزی اور بچاؤ کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جاسکے۔سیارچے یا ایسٹی رائڈ وہ اجسام ہیں جو ہمارے نظام ِ شمسی میں آزادانہ گھومتے رہتے ہیں اور عموما دیگر سیاروں سے ٹکرا کر بڑی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔

تاریخی اور سائنسی حوالوں کے مطابق تقریبا 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے جدید میکسیکو کے سمندری علاقے چک سولب کے قریب 10 سے 15 کلو میٹر قطر کا ایک سیارچہ ٹکرایا تھا، جس کے نتیجے میں وہاں 150 کلو میٹر بڑا اور 20 کلومیٹر گہرا گڑھا پڑا۔

اس ٹکراؤ سے زمین کے اسٹریٹو سفیئر میں گرد و غبار اور دھواں اس قدر زیادہ تھا کہ سورج کی روشنی زمین پر پہنچنا تقریباً معدوم ہوگئی جبکہ اس سے خارج ہونے والی توانائی کا اندازہ لگانا اب تک مشکل ہے کیوں کہ کرہ ارض کا شاید ہی کوئی خطہ ایسا ہو جو اس تصادم سے ہونے والی تباہی کی زد پر نہ آیا ہو۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ سیارچہ میکسیکو کے علاوہ زمین کے 87 فیصد حصے میں واقع کسی اور علاقے سے ٹکراتا تو شاید اتنی تباہی نہ ہوتی اور آج ڈائنا سارز جیسے عظیم الجثہ جانوروں کی کوئی نوع زمین پر ضرور موجود ہوتیں۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق یہ سیارچے 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے چک سو لب پر ہونے والے واقع کے بعد بھی وقتا فوقتا زمین پر تباہی پھیلاتے رہے ہیں، جن میں سب سے زیادہ اہم 30 جون 1908 کو رونما ہونے والے ‘ٹنگسکا’ کے واقع کو حاصل ہے جو روس میں دریائے ٹنگسکا او رمشرقی سائیبیریا کے قریب کم آبادی والا علاقہ ہے۔

اس واقعے کو اس حوالے سے زیادہ اہمیت حاصل ہے کہ اس میں 200 سے 620 فٹ بڑا سیارچہ زمین کی سطح سے ٹکرانے کے بجائے فضا میں 5 سے 10 کلومیٹر کی بلندی پر شدید دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا تھا جس سے ری ایکٹر اسکیل پر 5 درجے کے زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے تھے، اس کے علاوہ اطراف میں 200 کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے جنگلات شدید متاثر ہوئے اور 80 لاکھ درخت جل کر خاکستر ہوگئے تھے، مگر آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، اس کے باوجود ٹنگسکا کے واقع کو کسی شہابیے یا سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کے باعث ہونے والا تاریخ کا ہولناک ترین واقع قرار دیا جاتا ہے ، کیونکہ 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے ہونے والے چک سولب واقعے کی صرف دستیاب آثار قدیمہ سے ہی تصدیق ہو سکی ہے۔

پاکستان سمیت متعدد ترقی پذیر ممالک میں شہابیوں کی بارش یا سیارچوں کے ٹکراؤ کے حوالے سے آج کے جدید ڈیجیٹل دور میں بھی توہمات پائی جاتی ہیں اور آئے روز اس طرح کی خبریں گردش میں ہوتی ہیں کہ قیامت آنے والی ہے یا زمین کا اختتام ہوا چاہتا ہے اور اس طرح کی پیش گوئیاں عموما ایسے جیوتشی یا ایسٹرولوجرز کرتے ہیں جن کی سائنسی معلومات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔

اس امر میں ہرگز کوئی شک نہیں کہ آسمان سے پتھروں کی بارش یا کسی سیارچے کا زمین سے ٹکراؤ چک سولب جیسی ہولناک تباہی کا باعث بن سکتا ہے، جس کی وجہ سے زمین پر آباد 75 فیصد مخلوق فنا ہو گئی تھی۔ مگر اس کی قبل از وقت پیش گوئی وہ بھی سائنسی معلومات سے بے خبر ایسٹر لوجزر کی جانب سے کی جانے والی پیش گوئی حقیقت سے بہت دور ہوتی ہے، عوام کو چاہیے کہ ایسی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے مستند عالمی اداروں کی جانب سے جاری کردہ خبروں پر نظر رکھا کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں