کراچی: جامعہ کراچی میں عالمی کتب میلہ اپنی آب و تاب سے جاری ہے، رواں سال کتب میلے میں 300 سے زائد اسٹالز قائم کیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا 52واں سالانہ عالمی کتب میلہ تیسرے روز بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔
کتب میلے کے آخری روز امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے خصوصی شرکت کی اور طلبہ سے خطاب کیا۔
منتظمین نے بتایا کہ رواں سال کتب میلے میں 300 سے زائد اسٹالز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 40 ہزار سے زائد شرکاء کی آمد متوقع ہے۔
میلے کے ابتدائی دو دنوں میں 25 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات شرکت کر چکے ہیں۔ یونیورسٹی کے علاوہ اسکولز اور کالجز سے بھی ادبی ذوق رکھنے والے طلبہ کی بڑی تعداد میلے میں موجود ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر نے اسلامی جمعیت طلبہ کو کامیاب کتب میلے کے انعقاد پر مبارکباد دی اور کہا کہ کتاب سے تعلق جوڑنے کے لیے ایسے میلوں کی آج شدید ضرورت ہے، کیونکہ ڈیجیٹل میڈیا کے غلبے کے باوجود کتاب کی اہمیت برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں طلبہ یونینز کے ذریعے طلبہ کے مسائل سینیٹ اور سنڈیکیٹ تک پہنچائے جاتے تھے اور مسائل حل ہو جاتے تھے، تاہم 10 فروری 1984 کو طلبہ یونین پر پابندی لگا دی گئی، جو 42 سال بعد بھی برقرار ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا مزید کہنا تھا کہ 2008 میں طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا گیا اور 2022 میں بل بھی منظور ہوا، مگر عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو یونین سازی کا بنیادی حق دیا جائے، کیونکہ فیسوں میں اضافہ، انفرااسٹرکچر کی خستہ حالی، بارش میں لیبز کا ڈوب جانا اور بعض شعبوں میں لاکھوں روپے فیس جیسے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔
منعم ظفر نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ جدوجہد سے وابستہ ہوں، کیونکہ منظم کوشش کے ذریعے ہی اپنے حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
انور خان اے آر وائی نیوز کراچی کے لیے صحت، تعلیم اور شہری مسائل پر مبنی خبریں دیتے ہیں


