کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی‘ عالمی عدالت میں مقدمہ دائر -
The news is by your side.

Advertisement

کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی‘ عالمی عدالت میں مقدمہ دائر

لاہور : مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور معصوم لوگوں کے بہیمانہ قتل عام کے خلاف انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔

مذکورہ درخواست لاہور کی وکلا تنظیم جوڈیشل ایکٹو ازم کی جانب سے نیدر لینڈ کے شہر ہیگ میں واقع انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں دائر کی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کے حکم پرمعصوم کشمیریوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے اوران پرکیمیائی ہتھیار استعمال کیے جارہے ہیں جو یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کی بدترین خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق کشمیر میں بھارتی افواج جس طرح نہتے کشمیروں پر مظالم ڈھا رہی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ کشمیر کی اس صورتحال پر اقوام متحدہ کا کردار متاثر کن نہیں اور وہ اپنی قراردادوں پر بھی عمل درآمد نہیں کروا سکی جبکہ اپنی قرارداد میں اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا تھا مگر اسے سرد خانے کی نذر کر دیا گیا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی مظالم کو منظر عام پر لانے کی پاداش میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف بھی غداری کےمقدمات درج کیے گئے۔

درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ نریندر مودی اس کی کابینہ اور بھارتی افواج کے سربراہ کے خلاف کارروائی کی جائے اور بھارتی افواج کی جانب سے کشمیر میں جاری بے گناہ افراد کی قتل و غارت گری کو فوری طور پر روکا جائے۔

یار درہے کہ وادی جموں و کشمیر میں ماہ جون میں حریت کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی میں نئی جان پڑ گئی تھی جس کے نتیجے میں بھارت نے بدترین ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر میں دو ماہ سے کشمیر میں کرفیو عائد کررکھا ہے اور اس عرصے میں سو سے زائد افراد شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

کشمیر میں انٹر نیٹ اور موبائل سروس بھی مقطع کردی گئی ہے اور عوام کے لیے روز مرہ کے استعمال کی اشیاء حاصل کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوچکا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں