site
stats
انٹرٹینمںٹ

رقص میں ہے سارا جہاں

آج دنیا بھر میں رقص کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ سنہ 1982 سے آغاز کیے جانے والے اس دن کو منانے کا مقصد رقص کی مختلف اقسام کو فروغ دینا، مختلف قوموں کے ثقافتی سرمائے کو بچانا اور رقص و ثقافت کے ذریعے امن کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان کی خوبصورت اور رنگا رنگ ثقافت میں بھی رقص کا اہم حصہ رہا ہے اور مختلف علاقوں میں روایتی رقص رائج ہیں جو خوشی کے مواقعوں پر کیے جاتے ہیں۔

اعضا کی شاعری جسے رقص کہا جاتا ہے، کے عالمی دن کے موقع پر ہم پاکستان میں کیے جانے والے چند خوبصورت علاقائی رقص کی جھلکیاں پیش کر رہے ہیں۔

بھنگڑا

صوبہ پنجاب کا روایتی رقص بھنگڑا دنیا بھر میں مشہور ہے اور یہ ایسا رقص ہے جسے عام زندگی میں بھی خوشی سے بے اختیار ہو کر کیا جاتا ہے۔

لڈی

شادیوں کے موقع پر کیا جانے والا یہ رقص پاکستان کے تمام علاقوں میں رائج ہے۔

سمی

سمی رقص پنجاب کے روایتی قبائل میں رائج ہے جس میں اداس موسیقی پر دھیما رقص کیا جاتا ہے۔

جھومر

ملتان اور صوبہ بلوچستان کے چند علاقوں میں رائج جھومر رقص کا نام لفظ ’جھوم‘ سے اخذ ہے۔

لیوا

لیوا رقص بلوچستان کے مکران قبائل میں رائج ہے۔

چھاپ

چھاپ صوبہ بلوچستان کا روایتی رقص ہے۔

ہو جمالو

سندھ دھرتی کا روایتی رقص ہو جمالو ہے جس میں اس بول کے گانے پر والہانہ رقص کیا جاتا ہے۔

خٹک

پشتون قبائل کا روایتی رقص خٹک ڈانس پوری دنیا میں مشہور ہے۔

اتن

صوبہ خیبر پختونخواہ میں خٹک ڈانس کے علاوہ اتن ڈانس بھی کیا جاتا ہے۔

گمر اور گٹکا

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ہزارہ ڈویژن میں گمر ڈانس مشہور ہے جو مارشل آرٹ کی طرز پر کیا جاتا ہے۔

کیلاش

پختونخواہ کے علاقے چترال میں آباد کیلاش قبیلے کا روایتی رقص نہایت خوبصورت ہوتا ہے۔

دھمال

پاکستان میں ایک اور مشہور رقص دھمال ہے جو سندھ اور پنجاب میں رائج ہے۔ اس رقص کا تعلق صوفی ازم سے بھی جوڑا جاتا ہے۔

پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے صوفی بزرگان کے مزاروں پر روز شام کے وقت دھمال کا اہتمام کیا جاتا ہے، جب نقارے پر چوٹ پڑتی ہے اور عشق مجازی و عشق حقیقی میں ڈوبے دیوانے دھمال ڈالنا شروع کردیتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top