The news is by your side.

Advertisement

اوزون کی تہہ زمین کے لیے کیوں ضروری ہے؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج کرہ ارض کو سورج کی تابکار شعاعوں سے بچانے والی اوزون تہہ کی حفاظت کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ رواں برس یہ دن ’اوزون اور کلائمٹ‘ کے عنوان سے منایا جارہا ہے۔

اوزون سورج کے گرد قائم آکسیجن کی وہ شفاف تہہ ہے جو سورج کی خطرناک تابکار شعاعوں کو نہ صرف زمین کی طرف آنے سے روکتی ہے بلکہ زمین پر اس کے نقصان دہ اثرات کا خاتمہ بھی کرتی ہے۔ اوزون کی تہہ کا 90 فیصد حصہ زمین کی سطح سے 15 تا 55 کلومیٹر اوپر بالائی فضا میں پایا جاتا ہے۔

سنہ 1970 میں مختلف تحقیقات سے پتہ چلا کہ انسانوں کے بنائے ہوئے مرکبات کی زہریلی گیسیں اوزون کی تہہ کو تباہ کر رہے ہیں۔ تباہی سے مراد اس کی موٹائی میں کمی ہونا یا اس میں شگاف پڑنا ہے۔ 1974 میں امریکی ماہرین ماحولیات نے اوزون کی تہہ کے تحفظ سے متعلق آگاہی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ اوزون کی تہہ کو لاحق خطرات کے باعث اگلے 75 سالوں میں اس تہہ کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: فطرت کے تحفظ کے لیے آپ کیا کرسکتے ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ خاتمے کی صورت میں نہ صرف دنیا بھر کا درجہ حرارت انتہائی حد تک بڑھ جائے گا بلکہ قطب جنوبی میں برف پگھلنے سے چند سالوں میں دنیا کے ساحلی شہر تباہ ہو جائیں گے۔

ozone-2

دسمبر 1994 میں اقوام متحدہ نے آج کے دن کو اوزون کی حفاظت کے دن سے منسوب کیا جس کا مقصد اس تہہ کی اہمیت کے بارے میں شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے۔


اوزون کو کس چیز سے خطرہ لاحق ہے؟

دنیا کی تیز رفتار ترقی نے جہاں کئی ممالک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا وہیں اس ترقی نے ہماری زمین پر ناقابل تلافی خطرناک اثرات مرتب کیے۔

ہماری فیکٹریوں سے خارج ہونے والی زہریلی گیس کاربن مونو آکسائیڈ ہماری فضا میں موجود آکسیجن کے ساتھ مل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ کاربن کا اخراج ہماری اور ہماری زمین کی صحت کے لیے نہایت مضر ہے اور یہ اوزون پر بھی منفی طور سے اثر انداز ہو رہا ہے۔

اس کا سب سے زیادہ اثر برف سے ڈھکے انٹار کٹیکا کے علاقے میں ہوا جہاں اوزون کی تہہ میں گہرا شگاف پیدا ہوچکا ہے۔ اوزون کو نقصان کی وجہ سے اس علاقہ میں سورج کی روشنی پہلے کے مقابلہ میں زیادہ آرہی ہے جس سے ایک تو اس علاقہ کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا دوسری جانب برف کے تیزی سے پگھلنے کے باعث سمندروں کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے دنیا بھر میں شدید سیلاب آنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: قطب شمالی کی گلابی برف

تاہم ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ انٹار کٹیکا کے اوپر اوزون میں پڑنے والا شگاف اب مندمل ہورہا ہے اور 2050 تک یہ پہلے کی طرح مکمل ٹھیک ہوجائے گا۔

اوزون کی تہہ کو ان چیزوں سے بھی نقصان پہنچتا ہے۔

جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ۔

سڑکوں پر دھواں دینے والی گاڑیوں اور ویگنوں کے استعمال میں اضافہ۔

کوڑا کرکٹ کو جلانے کے بعد اس سے نکلنے والا زہریلا دھواں۔

کلورو فلورو کاربن یعنی سی ایف سی مرکبات کا استعمال۔ یہ گیس انرجی سیور بلب، ڈیپ فریزر، ریفریجریٹرز، کار، ایئر کنڈیشنر، فوم، ڈرائی کلیننگ، آگ بجھانے والے آلات، صفائی کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکل اور فیومیگیشن میں ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ اس گیس کے استعمال کو کم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی 1989 میں 150 سے زائد ممالک نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جسے مونٹریال پروٹوکول کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے پر عمل کے بعد اب دنیا بھر میں ہائی سی ایف سی گیس کا استعمال کیا جاتا ہے۔


اوزون تہہ کی تباہی کی صورت میں نقصانات

اوزون کی تہہ تباہ ہونے یا اس کی موٹائی میں کمی ہونے کی صورت میں یہ نقصانات ہوں گے۔

دنیا بھر کے درجہ حرارت میں شدید اضافہ۔

عالمی سمندروں کی سطح میں اضافہ۔

دنیا بھر میں سیلابوں کا خدشہ ۔ ساحلی شہروں کے مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ جانے کا خدشہ۔

سورج کی تابکار شعاعوں کا زمین پر براہ راست آنا جس سے انسانوں و جانوروں میں جلدی بیماریوں اور مختلف اقسام کے کینسر میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

شدید گرمی سے درختوں اور پودوں کو نقصان۔

گرم موسم کے باعث زراعت میں کمی جس سے کئی علاقوں میں قحط اور خشک سالی کا خدشہ ہے۔

ٹھنڈے علاقوں میں رہنے والے جانوروں کی نسل معدوم ہونے کا خدشہ۔
ozone-4


اوزون کو بچانے کے لیے کیا کیا جائے؟

اوزون کی حفاظت ماحول دوست گیسوں کے حامل برقی آلات اور مشینری کے استعمال سے ممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں طویل المدتی شہری منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس کے تحت کھلے، ہوادار گھر بنائے جائیں اور ان میں سبزہ اگایا جائے تاکہ وہ ٹھنڈے رہیں اور ان میں رہائش پذیر افراد کم سے کم توانائی کا استعمال کریں۔

مزید پڑھیں: دنیا کے ماحول دوست ممالک

مزید پڑھیں: مراکش میں مساجد کو ماحول دوست بنانے کا آغاز

واضح رہے کہ دنیا بھر کے درجہ حرارت میں اضافہ سے نمٹنے کے لیے گذشتہ برس پیرس میں ہونے والی کلائمٹ چینج کی عالمی کانفرنس میں بھی ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے گئے جس میں پاکستان سمیت 195 ممالک نے اس بات کا عزم کیا کہ وہ اپنی صنعتی ترقی کو محدود کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کی صنعتی ترقی عالمی درجہ حرارت میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد اضافہ نہ کرے۔


 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں