The news is by your side.

Advertisement

جمہوریت کا عالمی دن: وبا سے نمٹنے کے لیے جمہوریت کا وجود ضروری

دنیا بھر میں آج جمہوریت کا عالمی دن منایا جارہا ہے، رواں برس اس دن کو کوویڈ 19 کے پھیلاؤ کی مناسبت سے منایا جارہا ہے۔

جمہوری اداروں کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج جمہوریت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، اس موقع پر پاکستان سمیت تمام جمہوری ممالک میں عوامی حکمرانی کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا جارہا ہے۔

یہ دن سنہ 2007 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کردہ متفقہ قرارداد کے تحت دنیا بھر میں 15 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔

رواں برس اس دن کو کرونا وائرس کے کی وبا کے پھیلاؤ سے منسلک کیا گیا ہے۔

اقوام متحد ہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریس نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج جب دنیا کوویڈ 19 سے محاذ آرائی میں مصروف ہے، ایسے میں جمہوریت کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے تاکہ ہر شخص کی معلومات تک آزادانہ رسائی ہو، ضروری ہے کہ اس حوالے سے فیصلہ سازی میں عوامی شرکت ہو، اور وبا سے نمٹنے کے تمام اقدامات قابل احتساب ہوں۔

جمہوریت کی تاریخ

ویسے تو یونان کے شہر ایتھنز کو جمہوریت کی جائے پیدائش مانا جاتا ہے مگر مؤرخین کا ماننا ہے کہ رومن تہذیب حقیقی معنوں میں ایک جمہوری تہذیب تھی جہاں عوامی حکمرانی تھی۔

یونان میں جمہوریت کی اصطلاح جس کا مطلب لوگوں کی حکومت ہے سکوں پر بھی کندہ کیے گئے تھے جس کا مقصد اس وقت کی حکومت کو عوامی حکومت ظاہر کرنا تھا، یہ دور 430 قبل مسیح کا دور تھا۔

یونان میں جمہوریت کا تصور سادہ اور محدود تھا، سادہ ان معنوں میں کہ یونان میں جو ریاستیں تھیں وہ شہری ریاست کہلاتی تھی۔ یہ چھوٹے چھوٹے شہروں پر مشتمل چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہوا کرتی تھیں۔

جمہوریت کا ایک سراغ ہندوستان میں بھی ملتا ہے، گوتم بدھ کی پیدائش سے قبل ہندوستان میں بھی جمہوری ریاستیں موجود تھیں جنہیں جن پد کہا جاتا تھا۔

جن مفکرین نے جمہوریت کی صورت گری کی اور جن کو آزاد خیال جمہوریت کا بانی سمجھا جاتا ہے وہ والٹیئر، مونٹیسکیو اور روسو ہیں۔ انہی کے افکار و نظریات کے ذریعہ جمہوریت وجود پذیر ہوئی۔

آج جدید دور میں اس دن کو منانے کا مقصد شہریوں کو اپنی خواہشات کے آزادانہ اظہار اور آزادی سے جینے کے حق کو فروغ دینا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں