The news is by your side.

Advertisement

امن کا عالمی دن‘ پاکستان اوربھارت جنگ کے دہانے پر

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں امن کا عالمی دن منایا جارہا ہے اس موقع پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون نے دنیا بھر کے انسانوں کی عظمت کو تسلیم کرنے اور عالمی سطح پر مساوات کے فروغ کی اپیل کی ہے ۔

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام امن کے دن کو پہلی بار1982 میں منایا گیا، 2001 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 52کے تحت اس دن کو منا نے کا فیصلہ کیا گیا، اور 2002 میں اسے پہلی بار عالمی طور پر منایا گیا۔

اس دن کو منانے کا اہم مقصد دنیا کو ہتھیاروں سے پاک کرنا اور امن کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے آج کی سالانہ تقریب کا آغاز اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں نصب امن کی گھنٹی بجا کرکیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم سب کو چاہیے کہ نو ع ِ انسانی کی عظمت کو یکساں طور پر تسلیم کریں اورعالمی مساوات کے فروغ کے لیے کام کریں اور یقینی بنائیں کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔ ا نہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ آئیے اپنی زمین کو سرسبز وشاداب بنائیں۔

اس سال آج کے دن کا عنوان ’’ پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے امن بلاکس کی تشکیل‘‘ رکھا گیا ہے‘ جس کا مقصد امن کو اقوامِ عالم کی ترجیحات میں سرفہرست قرار دینا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک نے پائیدار ترقی کے 17 اہداف مقرر کیے تھے اور طے کیا تھا کہ ان اہداف کو آئندہ 15 سالوں میں یعنی کہ 2030 تک ہر صورت حاصل کرنا ہے۔

 مزید پڑھیں: دنیا کے مستقبل کے لیے پائیدار ترقیاتی اہداف

ان اہداف میں دنیا سے غربت کا خاتمہ‘ کرہ ارض کی حفاظت اور تمام انسانیت کی خوشحالی شامل ہیں۔ ان اہداف کو دنیا بھر میں قیام امن سے مشروط بھی کیا گیا ہے کہ بغیر امن پائیدار ترقی کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنا انسانیت کی مشترکہ فکری کاوشوں کا نتیجہ اور اقوامِ عالم کے درمیان تاریخ کا سب سے بڑ اعمرانی معاہدہ ہے اور یہی اس کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کی باہمی کامیابی کا نسخہ بھی ہے۔

مغربی ممالک اور اقوام متحدہ جہاں ایک جانب مساواتِ عالم کا پیغام دے رہے ہیں وہیں کشمیر،فلسطین،برمااور دنیا کے دیگر خطوں میں مسلمانوں پر ہونے والے یکطرفہ مظالم اقوام متحدہ کے ادارے کی کارکردگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں۔

آج جب کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے پاکستان اور بھارت کے تعلقات ایک بار پھر بھارت کی ہٹ دھرمی اور جنگی جنون کے سبب تاریخ کے بدترین موڑ پر ہیں اور جس کے سبب دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے اس خطے کا امن مستقل خطرے میں ہے۔

آج کےدن اقوام متحدہ کو چاہئے کہ پائیدار ترقی کے عالمی اہداف حاصل کرنے کے لیے بھارت پر زور دے کہ وہ کشمیر ی عوام کو بھی دنیا کے دیگر تمام انسانوں کی طرح ان کی زمین کا مالک سمجھے اور ان کے حق رائے دہی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا جابرانہ تسلط ختم کرکے عوام کو ان کی مرضی سے ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے دے بصورت دیگر وہ عمرانی معاہدہ جسے انسانی دانش کا اہم ترین نمونہ قرار دیا جارہا ہے خطرے میں پڑجائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں