site
stats
اے آر وائی خصوصی

زبوں حالی کا شکار پاکستانی فائر فائٹرز

دنیا بھر میں آج آگ سے لڑنے والے جانباز سپاہیوں یعنی فائر فائٹرز کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔

آج کا دن زندگیاں بچانے کے لیے سلگتی بھڑکتی آگ میں کود جانے والے بہادر فائر فائٹرز کے نام منسوب ہے۔

فائر فائٹرز کو آگ سے لڑنے کے لیے خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ فائر فائٹنگ کے محکمے جدید آلات سے لیس ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں۔

پاکستان میں آگ بجھانے کا محکمہ جدید سہولیات سے محروم ہے۔ ملک کے بیشتر شہروں میں فنڈز کی کمی کے باعث محکمے کا برا حال ہے۔

صرف کراچی جیسے بڑے اور بلند و بالا عمارات کے حامل شہر میں آگ بجھانے کی 37 میں سے 13 گاڑیاں خراب پڑی ہیں۔ 4 میں سے 2 باؤزر ناکارہ ہیں۔

پونے 2 کروڑ آبادی کے لیے صرف 1600 فائر فائٹرز جبکہ صرف ایک اسنارکل دستیاب ہے۔

یاد رہے کہ عالمی معیار کے مطابق 2 لاکھ کی آبادی کے لیے 4 فائر ٹینڈرز، 30 ہزار گیلن پانی اور 10 لاکھ آبادی کی آبادی کے لیے ایک اسنارکل لازمی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top